واشنگٹن: امریکا نے جمعرات کو کہا ہے کہ وہ ایران کی بح ناکہ بندی غیر معینہ مدت تک جاری رکھ سکتا ہے اور تہران پر اقتصادی دب مزید بڑھائے گا۔ یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب جنگ بندی مذاکرات تعطل کا شکار ہیں، عالمی تیل کی رسد میں کمی واقع ہو رہ ہے اور خطے میں کشیدگی عروج پر ہے۔
امریکی وزیر دفاع پیٹ ہگستھ نے نامہ نگاروں کو بتایا کہ امریکی فوج کے پاس ایران کی ناکہ ب نافذ کرنے کے لیے خطے میں بحری موجودگی برقرار رکھنے کی مکمل صلاح موجود ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس ناکہ بندی سے ایران کو شدید اقتصادی نقصان پنچا ہے۔
بحری بیڑے کی مسلسل تعیناتی ممکن
>پاناما کے دورے کے دوران ہیگستھ نے کہا، “امریکی بحریہ غیر معہ مدت تک اس طرح کی ناکہ بندی برقرار رکھ سکتی ہے کیونکہ ہم جہوں کو باری باری تبدیل کرتے رہیں گے، جیسا کہ ہم کرتے آے ہیں، اور آئندہ بھی کرتے رہیں گے۔”
دوسری جانب امریکی وزیر خزانہ اسکاٹ بیسینٹ نے کہا کہ امریکا ایران مزید مالی نقصان پہنچانے کا ارادہ رکھتا ہے۔ نیوز میکس کےگرام “راب شمٹ ٹونائٹ” میں انٹرویو کے دوران انہوں نے کہا “اگلے ہفتے مزید اعلانات کے لیے دیکھتے رہیں، کیونک ہم ایسے اقدامات کریں گے جو کسی ملک کی اقتصادی تنہائی کی تاریخ میں کبھ نہیں دیکھے گئے۔”
آبنائے ہرمز پر کنٹر کی کشمکش
جنگ کے خاتمے کے لیے جون کا عارضی معہدہ ٹوٹنے کے بعد ایران نے آبنائے ہرمز پر کنٹرول کے ذریعےاشنگٹن پر دباؤ ڈالنے کی کوشش کی ہے۔ ایران نے اس اسٹریٹجک آ گزرگاہ سے گزرنے والے کچھ جہازوں پر حملے کیے ہیں،ہاں سے جنگ فروری میں شروع ہونے سے پہلے دنیا کا پانچواں حصہیل اور مائع قدرتی گیس گزرتا تھا۔
متحدہ عرب امارات کی سر خبر رساں ایجنسی ڈبلیو اے ایم کے مطابق جمعرات کی شام آبنائے سے گتے ہوئے سرکاری کمپنی ابوظہبی نیشنل آئل کمپنی کے دو جازوں پر حملے ہوئے۔ اماراتی حکومت نے اسے ایرانی حملہ قرار دیتے ہوئےذمت کی۔
گھریلو دباؤ اور انتخابی سیاست
امکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اندرون ملک اس جنگ کے خاتمے کے لیے شدیدباؤ کا سامنا کر رہے ہیں جو عوام میں انتہائی غیر مقبول ہے۔ ایندھ کی بلند قیمتیں ان کی منظوری کی شرح کو گرا رہی ہیں اور نومبر میں وسط مد انتخابات میں ان کی جماعت کی کانگریس پر گرفت کمزور ہونے کا خدشہ پیدا ہ گیا ہے۔
ٹرمپ بارہا یہ دعویٰ کر چکے ہیں ک امریکا کا آبنائے پر “مکمل کنٹرول” ہے، جس کی ایران تردید کر ہے۔ تہران نے واضح کیا ہے کہ جب تک اس کی شرائط پوری نہیں ہوتیں وہ آبی گزرگاہ کو دوبارہ نہیں کھولے گا۔ انائط میں اقتصادی پابندیوں کا خاتمہ اور منجمد ایرانی اثاثوں کی واپسی شامل ہے۔p>
منگل کو آبنائے ہرمز سے گزرنے والے جہازوں کی تعداد کمو کر آٹھ رہ گئی، جبکہ دس روزہ اوسط تقریباً بارہ جہازومیہ تھی۔ جنگ سے پہلے یہ تعداد 130 سے 140 جہاز یومیہ تھی
عالمی تیل کی رسد میں نمایاں کمی
بین الاقو توانائی ایجنسی نے بدھ کو پیش گوئی کی کہ رواں سال عالمی تیل کی رسد میںومیہ 43 لاکھ بیرل یعنی تقریباً چار فیصد کمی واقع ہو گی۔ صرف ایک ماہ ایجنسی نے 37 لاکھ بیرل یومیہ کمی کی پیش گوئی کی تھی۔
>جمعرات کو تیل کی قیمتیں ایک ہفتے کے اضافے کے بعد دو فیصد سے زائدچے آ گئیں، کیونکہ سرمایہ کاروں کی توجہ عالمی طلب میں کمزوری کےوں اور امریکی خام تیل کے ذخائر میں تیزی سے اضافے پر مرکوز رہی۔p>
تاہم یمن کے ایران نواز حوثیوں کی جانب سے سعودی آرامکو کی ریائنری کو ڈرونز سے نشانہ بنانے کی اطلاعات نے مارکیٹ میں بے چینی پیدا کر دی،س سے علاقائی جنگ کے وسیع ہونے کے خدشات تازہ ہو گئے۔
عالمی ماہرین اقتصادیات نے خبردار کیا ہے کہ جنگ کے نتیجے میں عالمیقی میں تیزی سے کمی واقع ہو گی، اور بعض علاقوں میں کساد بازاری کا خطرہ بی پیدا ہو سکتا ہے۔ انہوں نے متنبہ کیا کہ اگر جنگ جلد ختم نہوئی تو اثرات مزید سنگین ہو جائیں گے۔
ہیگستھ نے اسوال پر تبصرہ کرنے سے انکار کر دیا کہ کیا اپریل میں جنگ بندی کاعلان کرنا ایک غلطی تھی، جس کے نتیجے میں ایران پر شدید بمب رک گئی اور امن مذاکرات شروع ہوئے جو تنازعے کو حل کرنے میں ناکامہے ہیں۔
انہوں نے کہا، “میں اس پر کبھیصرہ نہیں کروں گا۔ ہم وہی کر رہے ہیں جو ضروری ہے،کہ ایران کبھی جوہری ہتھیار حاصل نہ کر سکے۔”
