شنگھائی: ایپل نے چینی مارکیٹ کے لیے خصوصی طور پریک بڑا لینگویج ماڈل تیار کیا ہے، یہ انکشاف تین ذرائع کیا ہے جو اس معاملے سے براہ راست واقف ہیں۔ یہ اقدام آئی فون بنے والی کمپنی کی اس حکمت عملی سے ہٹ کر ہے جس کے تحت وہ چین میں مصنی ذہانت کی خصوصیات کے لیے تھرڈ پارٹی ماڈلز پر انحصار کرتیہی ہے۔
ذرائع کے مطابق، یہ اے آئی ماڈل علی بابا گرو کے ساتھ شراکت داری میں تیار کیا گیا ہے اور چینی ٹیک کمپنی کی معونت سے اس کی تربیت مکمل کی گئی ہے۔ ذرائع نے نام ظاہر نہ کرنے کیط پر یہ معلومات فراہم کیں کیونکہ یہ معلومات حساس اور غیر عوامی ہیں۔>
چین کے لیے ایپل کی منفرد حکمت عملی
ایپ کی جانب سے چین کے لیے اپنے مخصوص ماڈل کی تربیت کی خبر پہلی بار سامے آئی ہے۔ اس سے قبل کمپنی کا رجحان مقامی شراکت داروں کے ماڈلز جانب تھا تاکہ چین میں فروخت ہونے والے آئی فونز اور دیگر آلات میں جنریو اے آئی متعارف کرایا جا سکے۔ چین میں امریکی ماڈلز جیسے اینھروپک کا کلاڈ اور اوپن اے آئی کا چیٹ جی پی ٹی دستی نہیں ہیں، جنہیں ایپل اپنی ہوم مارکیٹ میں اپنی ٹیکالوجی کے ساتھ جوڑتا ہے۔
ایپل اور علی بابا نے تبصرے درخواستوں کا جواب نہیں دیا۔
ذرائع کے مطابق، ایپ کی اے آئی ٹولز کی سوٹ ’ایپل انٹیلی جنس‘ آئی او ایس آپٹنگ سسٹم کی اپ ڈیٹ کے بعد آنے والے مہینوں میں چین میں لچ ہونے کی توقع ہے۔
مقامی حریفوں سے مقابلے کی کوششh2>
چین کے لیے تیار کردہ اپنا ماڈل ایپل کو اپنی سے زیادہ مسابقتی غیر ملکی مارکیٹ میں اے آئی تجربے پر زیادہ کنٹرول فراہم کرے گا۔ ایپل چین میں ہواوے جیسے مقامی حریفوں سے پیچھ رہ گیا ہے جنہوں نے اے آئی سے لیس ہینڈ سیٹس کے ساتھ تی سے پیش قدمی کی ہے۔
ایپل کا منصوبہ چین میں کسی غیر ملکیپنی کے لیے اے آئی تعیناتی کی ایک منفرد دوہری حکمت عملی کی نمائ کرتا ہے۔ اس سے ایپل کو ان سخت ریگولیٹری رکاوٹوں سے نمٹنے مدد ملے گی جنہوں نے دیگر کئی امریکی ٹیک کمپنیوں کی رسائی محدود کر رکی ہے۔
بیجنگ کی منظوری اور تاریخی تعاون
یہ اقدام ایل کو پہلی غیر ملکی کمپنی بھی بنائے گا جسے بیجنگ نے چین اپنا ملکیتی اے آئی ماڈل پیش کرنے کی منظوری دی ہے۔ یہ امریکہ چین کے درمیان اے آئی کے معاملے پر بڑھتی ہوئی تجارتی اور سفارتییدگی کے باوجود ٹیک کمپنیوں کے درمیان ایک غیر معمولی تعاون کی علامت ہے۔
یہ پیش رفت ایک طویل ریگولیٹری عمل کے بعد سامنے آئی ہے جوزشتہ ماہ اس وقت مکمل ہوا جب چین کے انٹرنیٹ نگران ادارے سائ اسپیس ایڈمنسٹریشن آف چائنا نے ایپل کی جنریٹو اے آئی س کو رجسٹر کیا، جس سے ایپل انٹیلی جنس کے لیے چینی آئی ف تک پہنچنے کا راستہ صاف ہو گیا۔
علی بابا بائیڈو کے ساتھ شراکت
اس انتظام کے تحت، علی بابا کاوون ماڈل ایپل انٹیلی جنس کے اس ورژن میں شامل کیا جانا ہے جو چین مطابقت رکھنے والے آئی فون، آئی پیڈ، میک اور ویژن پرو ماڈلز ساتھ آئے گا۔ رائٹرز نے جولائی میں رپورٹ کیا تھاہ اس سروس میں بائیڈو کی ٹیکنالوجی بھی شامل کی جانی تھی۔
گزشتہ ہفتے، ایپل نے ایک چینی زبان کی گائیڈ شائع کی تھ جس میں بتایا گیا تھا کہ مین لینڈ چین میں اہل میک صارفینوون کو اپنے سری ڈیجیٹل اسسٹنٹ اور رائٹنگ ٹولز فیر سے کیسے جوڑ سکتے ہیں۔ یہ میک کے لیے مخصوص انتظام تھا جوین کی اے آئی پی سی مارکیٹ میں مقابلے میں مددگار ثابت ہو سکتا تھ۔ تاہم، ایپل نے بغیر کوئی وضاحت دیے اس گائیڈ کو حذف کر دی ہے۔
سرمایہ کاروں کی توقعات اور چین کی اہمیت
جولائی کی رجسٹریشن کی خبر پر علی بابا کے امریکہ میں درج شیئر پری مارکیٹ ٹریڈنگ میں تقریباً 4 فیصد چڑھ گئے، جو اس بات کیکاسی کرتا ہے کہ سرمایہ کار اس شراکت داری کو چین کے اے آئی ایکوسٹم کی تشکیل نو کے لیے اہم سمجھتے ہیں۔
ایپل کی علی بابا کے ساتھ شراکت داری کی تصدیق پہلی بار فروری 2025 میں اس وقت ہوئی تھی جب علی بابا کے چیئرمین جو سائی نے دبئی میں ورلڈ گورمنٹس سمٹ سے خطاب کرتے ہوئے کہا تھا کہ ایپل چین میں انے فونز کو طاقت دینے کے لیے چینی کمپنی کی اے آئی استعمال کرےا۔
چین ایپل کی آمدنی کا ایک اہم حصہ ہے۔ چ آئی فونز پر اے آئی خصوصیات کی عدم موجودگی کو فروخت میں کمی کا ایک عنصر قرارا گیا تھا کیونکہ صارفین بلٹ ان اے آئی اسسٹنٹس پیش کرے والے مقامی برانڈز کی جانب مائل ہو رہے تھے۔
یہوری طور پر واضح نہیں ہو سکا کہ ایپل کا خود تربیت یافتہ مال تھرڈ پارٹی چینی ماڈلز کے ساتھ کیا کردار ادا کرے گا اورہ ماڈلز ایک ساتھ کیسے کام کریں گے۔
