پیرس: فر کی آئینی عدالت نے جمعہ کے روز ایک متنازعہ قانون کو مسترد کر دیا جس کے تحت15 سال سے کم عمر بچوں کے لیے سوشل میڈیا پلیٹ فارمز تک رسائی پر پندی عائد کی گئی تھی۔ عدالت نے قرار دیا کہ یہ قانون آزادی اظہار اور مولات کے بنیادی حق کی خلاف ورزی کرتا ہے۔
آئینی کونسل نے انے فیصلے میں کہا کہ مجوزہ پابندی “مطلوبہ مقصد کے لیے موں، ضروری اور متناسب نہیں ہے۔” یہ فیصلہ صدر ایمانوئل میکرون کےے ایک بڑا سیاسی دھچکا ہے، جنہوں نے گزشتہ کئی مہینوں اس مسئلے کو اپنی ترجیحات میں شامل کر رکھا تھا۔
عدالت نے آزادی اظہار کی خلاف ورزی قرار دیا
آئینی کونسل کو جولائی کے آخر میں سوشلسٹ اور لا فرانس انسومیز پارٹیوں کے ارکان پارلیمن نے یہ معاملہ بھیجا تھا۔ عدالت نے اگرچہ “بچوں کے اعلیٰاد کے تحفظ کی آئینی ضرورت” کو تسلیم کیا، لیکن اس بات پر زور دیاہ یہ وسیع پابندی “ایسے آن لائن مواصلاتی خدمات پر بھی لاگو ہ سکتی ہے جن کے نابالغوں کی صحت اور حفاظت کے لیے خطرات ثابت نہیںیں۔”
یکم ستمبر سے نافذ ہونے والا یہ قانون ٹک ٹ، اسنیپ چیٹ، ایکس اور انسٹاگرام جیسے پلیٹ فارمز کے ساتھ ساتھ یویوب کی سماجی خصوصیات، واٹس ایپ اور میسنجر جیسیسجنگ ایپس اور کچھ آن لائن ویڈیو گیمز تک رسائی پر پابندی لے کا ارادہ رکھتا تھا۔
نجی زندگی کے تحفظ پر خدات
عدالت نے عمر کی تصدیق کے نظام کے نفاذ سے پیدا ہونے والے رداری کے ممکنہ خطرات پر بھی تشویش کا اظہار کیا۔ قانون میں پلیٹمز کو رجسٹریشن کے وقت عمر کی تصدیق کے لیے ایک یا زیادہ طریقے اپنان کی ضرورت تھی، لیکن اس کی تکنیکی تفصیلات واضح نہیں کی گئیھیں۔
عدالت نے کہا کہ “عمر کی تصدیق کی شرائط حدود متعین نہ کرنے کی وجہ سے، قانون ساز نے نجی زندگی کے احترام کے حق کے لیے ضروری قانونی ضمانتیں فراہم نہیں کیں۔”
میکرونا عزم برقرار
فرانسیسی حکومت نے اس قانون کے ذریعے بوں کو آن لائن پلیٹ فارمز کے استعمال سے منسلک بے چینی، ڈپریشن،ند کی خرابی اور آن لائن ہراسانی جیسے منفی اثرات سے بچانے کی کوشش تھی۔ جولائی میں شائع ہونے والی ایک تحقیق کے مطابق، 10 سے 14 سال عمر کے دو تہائی سے زیادہ بچے اس پابندی کے حق میں تھے۔>
فیصلے کے باوجود، صدر میکرون نے اس معاملے پر کام جاری رکھنے کا ع ظاہر کیا ہے۔ انہوں نے وزیر اعظم سیبسٹین لیکورنو کو ہایت دی ہے کہ وہ “آئینی کونسل کے فیصلے اور یورپی فریم ورک کو مدظر رکھتے ہوئے” جلد از جلد نئے مسودے پر کام کریں۔
ایلیسی محل کے مطابق، صدر کی “2027 کے موسم بہار تک اس اصلاحات کومل کرنے کا عزم مکمل طور پر برقرار ہے۔”
قانون سازی ک طویل عمل
یہ متنازعہ قانون قومی اسمبلی اور سینیٹ کے درمی طویل بحث و مباحثے کا موضوع رہا تھا۔ سینیٹ نے قانون کے دائرہ کار محدود کرنے کے لیے پابندی والے سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کی “بک لسٹ” شامل کرنے کی کوشش کی تھی، لیکن یورپی قانون سے مطاب کے خدشات کے پیش نظر پارلیمنٹ میں 21 جولائی کو منظور شدہ حتمی ورژن میںہ تجویز ترک کر دی گئی۔
