پیرس: فرانس کی آئینی کونسل نے زندگی خاتمے سے متعلق متنازعہ قانون کی منظوری دے دی ہے، جس کے بعد شدید اور لاعاج بیماریوں میں مبتلا مریضوں کو طبی امداد کے ساتھ موت کا حق حاصل ہویا ہے۔ جمعہ 14 اگست کو جاری کیے گئے فیصلے میں کونسل نے قانون پررف تین معمولی تحفظات کا اظہار کیا، جن میں سے دو ضمیر کی آزادی کی ش سے متعلق ہیں۔
یہ قانون رواں سال وسط جولائی میں پارلیمنٹ منظور ہوا تھا، جس کے بعد مخالفین نے اسے آئینی کونسل میں چیلنج ک تھا۔ وزیر اعظم سیباسٹین لیکورنو سمیت پانچ مختلف فریقوں نےونسل سے رجوع کیا تھا، لیکن رچرڈ فیرانڈ کی سربراہی کونسل نے تمام اعتراضات مسترد کر دیے۔
صدر میکرون کا ردعمل
فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون نے اس فیصلے کا خیرقدم کرتے ہوئے کہا کہ اس سے “ایک مثالی جمہوری بحث مکمل ہوئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ “اب اس اصلاحات کے نفاذ کی طرف بڑھا جا سکت ہے، اس یقین کے ساتھ کہ یہ مکمل طور پر قائم شدہ جمہوری، اخلاق اور آئینی بنیادوں پر کھڑی ہے۔”
میکرون نے یہ قانونانسیسی عوام کی ایک بڑی اکثریت کی خواہش کو پورا کرنے کےے پیش کیا تھا، جو طویل عرصے سے ایسی قانون سازی کا مطالبہ کر رے تھے۔
آئینی کونسل کے تحفظات
کون نے قانون میں درج ضمیر کی آزادی کی شق پر دو تحفظات کا اظہار کیا۔ شق کے تحت کوئی بھی طبی عملہ رضاکارانہ طور پر ایسی کارروائی سے انکار سکتا ہے۔ کونسل نے واضح کیا کہ نجی طبی ادارے، جو اکثر مذہبییموں سے وابستہ ہوتے ہیں، امدادی موت کی سہولت فراہم کرن سے انکار کر سکتے ہیں، بشرطیکہ یہ طریقہ کار “ادارے کے قانونین یا منصوبے کے واضح طور پر خلاف” ہو۔
تاہم، کون نے اس بات پر زور دیا کہ ایسی صورت میں مریض کو قریبی متبادل سہولت تکائی حاصل ہونی چاہیے۔ مزید برآں، کونسل نے نشاندہی کی کہہ شق نہ صرف ڈاکٹروں اور نرسوں پر لاگو ہوتی ہے بلکہ فاراسسٹوں پر بھی، جنہیں مہلک دوا تیار کرنے کے لیے کا جا سکتا ہے۔
زیر سرپرستی مریضوں کے لیے ہدای
تیسرا تحفظ ان مریضوں سے متعلق ہے جو قانونی سرپرستی یا نانی میں ہیں۔ کسل نے کہا کہ جو ڈاکٹر امدادی موت کی منظوری گا، اسے مریض کے سرپرست کے مشاہدات کو “مدنظر رکھنا”وگا۔ قانون میں سرپرست سے مشورہ کرنے کی ضرورت تو ہے، لیکن یہ واضحہیں کہ ان مشاہدات کو کس حد تک اہمیت دی جائے۔
>کونسل نے فیصلہ دیا کہ یہ تینوں تحفظات اتنے سنگین نہی کہ پورے قانون کو کالعدم قرار دیا جائے، اس لیے صدر میکرون جلد ہی اس کی توثیق کر سکیں گے۔
قانون کی اہم شرائط
نئے قانون کے تحت آنے والے ہفتوں میں درج ذیل شرائط پوری کرے والے مریض امدادی موت کے اہل ہوں گے:
- مریضغ ہونا چاہیے
- شدید اور لاعلاج بیماری میں مبتلا ہونا چایے
- بیماری آخری مرحلے یا انتہائی ترقی یافتہ حالت میں ہ چاہیے
- مریض کو ناقابل برداشت جسمانی تکلیف کا سامناونا چاہیے
طبی منظوری ملنے کے بعد مریض کو عملآمد سے پہلے کم از کم دو دن انتظار کرنا ہوگا۔ مزید برآں، مری کو اسی دن دوبارہ اپنی مرضی کی تصدیق کرنی ہوگی۔ مریض کو ملک دوا خود لینی ہوگی، سوائے اس صورت کے جب وہ جسمانی طور پر ایسانے سے قاصر ہو، تب ایک طبی کارکن یہ عمل انجام دے سکتا ہے۔
