اسلام آباد: گوگل نے پاکستان بھر کے طلبہ و طالبات کو اپنی جیمنائی اے آئی سروس کی ایک سالہ مفت رکنیت فراہم کرنے کا اعلان کیا ہے۔ یہ اعلان کمپنی کے نائب صدر ولسن وائٹ نے منگل کو پاکستان میں گوگل کے پہلے مقامی دفتر کے قیام کی تقریب کے دوران کیا۔
تقریب سے خطاب کرتے ہوئے ولسن وائٹ نے کہا کہ گوگل پاکستانی طلبہ کو بغیر کسی قیمت کے جیمنائی اے آئی کی رکنیت فراہم کرے گا۔ انہوں نے بتایا کہ اس اقدام کا باقاعدہ اعلان رواں ہفتے کے آخر تک متوقع ہے۔
پاکستان کے آئی ٹی اہداف سے ہم آہنگی
گوگل کے نائب صدر نے وزیراعظم شہباز شریف کے پاکستان کو 30 ارب ڈالر کا آئی ٹی ایکسپورٹ مرکز بنانے کے وژن کو سراہتے ہوئے کہا کہ یہ عزائم گوگل کے ملک کے لیے مقاصد سے ہم آہنگ ہیں۔
ولسن وائٹ کے مطابق گوگل نے گزشتہ ایک دہائی کے دوران پاکستان میں مقامی کاروباروں اور گھرانوں کے لیے 3.9 ٹریلین روپے سے زائد کی اقتصادی سرگرمیوں میں حصہ ڈالا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ اسی عرصے میں گوگل کے ماحولیاتی نظام نے ملک میں 9 لاکھ 60 ہزار سے زائد ملازمتوں کو سپورٹ کیا ہے۔
مستقبل کے منصوبے
گوگل ایگزیکٹو نے پاکستان میں کمپنی کی سرگرمیوں میں مزید توسیع کے اشارے دیتے ہوئے کہا کہ تازہ ترین پیش رفت گوگل کے ملک کے لیے منصوبوں کا محض آغاز ہے۔
تقریب کے بعد وفاقی وزیر برائے انفارمیشن ٹیکنالوجی اینڈ ٹیلی کمیونیکیشن شاہد فاطمہ خواجہ نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر ایک پوسٹ میں گوگل کی پاکستان آمد کا خیرمقدم کیا۔
طلبہ کے لیے کیا مواقع ملیں گے؟
مفت جیمنائی رکنیت کے باقاعدہ آغاز کے بعد پاکستانی طلبہ کو گوگل کے اے آئی سے چلنے والے ٹولز تک رسائی حاصل ہوگی جنہیں سیکھنے، تحقیق اور دیگر تعلیمی مقاصد کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے۔
یہ اقدام پاکستان میں ڈیجیٹل تعلیم کے فروغ اور مصنوعی ذہانت کی مہارتوں کو عام کرنے کی جانب ایک اہم قدم تصور کیا جا رہا ہے۔
