پیرس: اگر آپ کو لگتا ہے کہ شدید گرمی کا یہ دور ختم ہونے کا نام نہیں لے رہا تو یہ بالکل فطری ہے۔ محکمہ موسمیات فرانس نے بدھ کے روز اعلان کیا کہ ملک میں جاری گرمی کی لہر 1947 میں ریکارڈ رکھنے کے آغاز کے بعد سے اب تک کی دوسری طویل ترین لہر بن چکی ہے۔
منگل 18 اگست کے لیے قومی تھرمل انڈیکیٹر 24.5 ڈگری سینٹی گریڈ ریکارڈ کیا گیا، جس کے ساتھ ہی فرانس مسلسل 22 دنوں سے گرمی کی لہر کی زد میں ہے۔ یہ عرصہ جولائی 2006 کی 21 روزہ گرمی کی لہر سے تجاوز کر چکا ہے اور 2003 کی لہر کو بھی پیچھے چھوڑ چکا ہے۔
1983 کا ریکارڈ قریب تر
فرانس میں طویل ترین گرمی کی لہر کا ریکارڈ 1983 کے موسم گرما کے پاس ہے، جب ملک نے مسلسل 23 دن تک شدید گرمی برداشت کی تھی۔ موجودہ لہر اس تاریخی ریکارڈ سے صرف ایک دن دور ہے۔
محکمہ موسمیات کے مطابق یہ گرمی کی لہر 28 جولائی کو شروع ہوئی تھی، جس میں 29 جولائی اور پھر 12 سے 14 اگست کے درمیان شدت کی دو بڑی چوٹیاں دیکھنے میں آئیں۔
2026 میں 50 سے زائد دن گرمی کی لہر
ایک اور چونکا دینے والا اعداد و شمار یہ ہے کہ فرانس نے رواں سال وسط جون سے اب تک 52 دن گرمی کی لہر میں گزارے ہیں، جو ایک نیا ریکارڈ ہے۔ اس سے قبل 2022 میں یہ تعداد 33 دن اور 2003 کے مہلک موسم گرما میں 22 دن تھی۔
17 جون کے بعد سے لہروں کے درمیان صرف تین اور پھر آٹھ دن کی معمولی مہلت ملی ہے۔
شدت اور طوالت میں فرق
محکمہ موسمیات گرمی کی لہر اور کینیکول (شدید گرمی کی وارننگ) میں فرق واضح کرتا ہے۔ گرمی کی لہر اس وقت شروع ہوتی ہے جب قومی تھرمل انڈیکیٹر ایک دن کے لیے 25.3 ڈگری تک پہنچ جائے اور کم از کم تین مسلسل دنوں تک اوسط درجہ حرارت 23.4 ڈگری یا اس سے زیادہ رہے۔
شدت کے لحاظ سے جون 2026 کے آخر کی گرمی کی لہر فرانس کی تاریخ کی سب سے شدید لہر ہے۔ تاہم، اگر طوالت اور شدت دونوں کو ملا کر دیکھا جائے تو اگست 2003 اب بھی سب سے زیادہ شدید گرمی کی لہر کا ریکارڈ رکھتا ہے۔
الرٹ میں نرمی، لیکن خطرہ برقرار
منگل کے روز جنوب مشرقی فرانس کے چھ محکموں سے اورنج کینیکول الرٹ ہٹا لیا گیا، جس کے بعد اب ملک میں کوئی بھی محکمہ اس الرٹ کے تحت نہیں ہے۔ تاہم، ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ گرمی کی لہر ابھی ختم نہیں ہوئی۔
موسمیاتی تبدیلیوں کے باعث یورپ بھر میں گرمی کی لہروں کی طوالت اور شدت میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے، اور فرانس کا یہ نیا ریکارڈ اس رجحان کا ایک اور واضح ثبوت ہے۔
