روم: اٹلی کے مشہور پہاڑی سلسلے ڈولومائٹس میں 2300 میٹر کی بلندی پر واقع ریفیوجیو فریڈرک آگسٹ نامی ایک پہاڑی پناہ گاہ ان دنوں اپنے دلکش مناظر یا چراگاہوں کی بجائے ایک خاص قسم کی مٹھائی کی وجہ سے سوشل میڈیا پر چھائی ہوئی ہے۔ یہاں فروخت ہونے والے کریم سے بھرے ڈونٹس، جنہیں مقامی زبان میں کراپفن کہا جاتا ہے، محض 3 یورو میں دستیاب ہیں اور ان کی شہرت نے سیاحوں کی اتنی بڑی تعداد کو اپنی طرف کھینچا ہے کہ دکان کے باہر لمبی قطاریں لگنے لگی ہیں۔
سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی ویڈیوز میں دیکھا جا سکتا ہے کہ سیاح اس بلند مقام تک پہنچنے کی مشقت کو خوشی خوشی برداشت کر رہے ہیں۔ ایک صارف نے اپنی ویڈیو میں کہا کہ یہ ڈونٹ کھانے کے لیے اس جگہ تک پہنچنے کی محنت بالکل قابل قبول ہے کیونکہ اس کا ذائقہ لاجواب ہے۔ متعدد دیگر سیاحوں نے اعتراف کیا کہ انہوں نے صرف اور صرف اس ڈونٹ کی خاطر اس بلند مقام کا رخ کیا ہے۔
مقامی افراد کی پریشانی اور افراتفری کے حالات
تاہم، اس مٹھائی کی وائرل شہرت نے مقامی انتظامیہ اور عملے کے لیے مشکلات کھڑی کر دی ہیں۔ برطانوی اخبار دی گارڈین سے گفتگو کرتے ہوئے پناہ گاہ کے ایک ملازم نے انفلوئنسرز پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے ایک انتہائی افراتفری کی صورتحال پیدا کر دی ہے۔ ملازم کا کہنا تھا کہ انتظامیہ اس صورتحال سے بالکل خوش نہیں ہے۔
حیاتیاتی تنوع کو لاحق خطرات
مقامی ماحولیاتی تنظیمیں اس بڑھتی ہوئی سیاحت کو قدرتی ماحول کے لیے سنگین خطرہ قرار دے رہی ہیں۔ اطالوی الپائن کلب کی وینیٹو ایجنسی کے صدر فرانسسکو ابروسکاٹو نے اطالوی میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا کہ اب کچھ مشہور مقامات پر قدرتی حسن سے لطف اندوز ہونا ممکن نہیں رہا کیونکہ وہاں درجنوں افراد صرف سیلفیاں لینے کے لیے جمع ہوتے ہیں۔
یہ مسئلہ ڈولومائٹس کے خطے کے لیے کوئی نیا نہیں ہے۔ جھیلوں اور پہاڑوں کے درمیان واقع یہ علاقہ طویل عرصے سے انتہائی انسٹاگرام ایبل مقامات کی تلاش میں نکلنے والے سیاحوں کی بڑی تعداد کو اپنی جانب متوجہ کرتا رہا ہے۔ صورتحال اس حد تک بگڑ چکی ہے کہ کچھ مقامی باشندوں نے اپنی نجی زمینوں پر غیر مجاز داخلے کی کوششوں سے تنگ آ کر بطور رکاوٹ ادائیگی والے ٹرن اسٹائل نصب کر دیے ہیں۔
انتظامیہ کی بے بسی اور بڑھتا ہجوم
سیاسی قیادت اور انتظامیہ اس بڑھتے ہوئے رجحان کو روکنے میں خود کو بے بس محسوس کر رہی ہے۔ ڈولومائٹس کے سب سے مشہور مقامات میں سے ایک ٹری چیمے دی لاواریڈو اس سال بھی سیاحوں سے کھچا کھچ بھرا ہوا ہے۔ اطالوی اخبار کوریری ڈیلا سیرا سے بات کرتے ہوئے علاقے کے میونسپل کونسلر نکولا بومباسی نے بتایا کہ انتظامیہ کی جانب سے ہجوم کو کنٹرول کرنے کی کوششوں کے باوجود گزشتہ سال کے مقابلے میں سیاحوں کی تعداد میں اضافہ ہوا ہے۔
انتظامیہ نے اس مقام تک رسائی کے لیے آن لائن بکنگ کو سختی سے تجویز کیا ہے تاکہ ایک ساتھ بہت زیادہ افراد کے پہنچنے سے بچا جا سکے، لیکن بظاہر انسٹاگرام پر ایک خوبصورت تصویر پوسٹ کرنے کے شوق میں سیاحوں کے لیے کوئی بھی انتظار یا رکاوٹ زیادہ طویل نہیں ہے۔
