# ٹرمپ کے ایلچی ماسکو اور کیف میں امن مشن پر روانہ
**واشنگٹن:** امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے خصوصی ایلچی جیرڈ کشنر اور اسٹیو وِٹکوف کو اس ہفتے کے آخر میں ماسکو اور کیف روانہ کیا ہے تاکہ یوکرین میں جاری جنگ کو ختم کرنے کے لیے امن کی نئی کوششوں کو آگے بڑھایا جا سکے۔ ٹرمپ نے امید ظاہر کی ہے کہ ان مذاکرات سے جنگ کے خاتمے کا راستہ نکل سکتا ہے۔
## ماسکو اور کیف میں اعلیٰ سطحی ملاقاتیں
ذرائع کے مطابق ایلچیوں کا پہلا پڑاؤ ماسکو ہوگا جہاں وہ ہفتے کے روز روسی صدر ولادیمیر پوتن سے ملاقات کریں گے۔ اس کے بعد وہ اتوار کو کیف پہنچیں گے اور یوکرین کے صدر وولودیمیر زیلنسکی سے گفتگو کریں گے۔ قابل ذکر ہے کہ یہ کشنر اور وِٹکوف کا کیف کا پہلا دورہ ہوگا، تاہم وہ اس سے قبل جنوری میں ماسکو جا چکے ہیں۔
## ٹرمپ کا امن منصوبہ
ٹرمپ نے یہ واضح نہیں کیا کہ ان کا امن منصوبہ یوکرین سے علاقائی حوالگی کا مطالبہ کرتا ہے یا نہیں، البتہ انہوں نے کہا کہ “ہمارے پاس امن کے لیے ایک منصوبہ ہے۔” دریں اثنا، زیلنسکی نے اپنے خطاب میں کہا ہے کہ یوکرین ایلچیوں کے دورے کے دوران روس کے ساتھ فضائی حملوں کی روک تھام کے لیے تیار ہے، بشرطیکہ روس بھی اس دوران اپنے حملے روک دے۔
## روسی حملے جاری
ماسکو نے ابھی تک ان ملاقاتوں کی تصدیق نہیں کی ہے اور نہ ہی زیلنسکی کی تجویز پر کوئی ردعمل دیا ہے۔ اس دوران جمعے کی رات روسی فورسز نے یوکرین کے شہر کامنسکے پر حملہ کیا جس میں کم از کم چار افراد ہلاک اور پانچ زخمی ہوئے ہیں۔
## سی آئی اے ڈائریکٹر کا ماسکو دورہ
گزشتہ ہفتے سی آئی اے کے ڈائریکٹر جان ریٹکلف کا ماسکو کا غیرمعمولی دورہ بھی قیاس آرائیوں کا باعث بنا تھا۔ کریملن کے مطابق انہوں نے روسی انٹیلی جنس حکام سے ملاقات کی، جسے ٹرمپ نے “نیم معمول” قرار دیا۔
## بڑھتی ہوئی کشیدگی
حالیہ ہفتوں میں روس نے کیف سمیت مختلف شہروں پر ڈرون اور میزائل حملے تیز کر دیے ہیں، جبکہ یوکرینی فوج نے بھی روس کے اندر فوجی اور توانائی کے اہداف کو نشانہ بنانے کے لیے حملے تیز کر دیے ہیں۔ زیلنسکی نے خبردار کیا ہے کہ یوکرینی ڈرونوں کی وجہ سے روسی فضائی حدود خطرناک ہو گئی ہیں، جس پر پوتن نے انہیں “دہشت گرد” قرار دیا۔
جمعے کو کیف کے تاریخی مرکز میں یوکرین کی سکیورٹی سروس (ایس بی یو) کے ہیڈکوارٹر پر روسی ڈرون حملے میں اس کے سربراہ کو نشانہ بنایا گیا، تاہم وہ اس وقت اپنے دفتر میں موجود نہیں تھے۔ زیلنسکی نے اس حملے کے خلاف “مناسب اور ٹھوس جواب” دینے کا عزم ظاہر کیا ہے۔
