یوکرین پر روس کے تازہ فضائی حملوں میں کم از کم دو شہری ہلاک ہو گئے ہیں۔ حکام کے مطابق یہ حملے جمعہ اور ہفتہ کی درمیانی شب کیے گئے، جن میں دارالحکومت کیف بھی شامل ہے۔ یہ کارروائیاں ایک ایسے دن کے بعد سامنے آئی ہیں جب وسطی یوکرین کے ایک مصروف شاپنگ سینٹر پر ڈرون حملے میں 16 افراد مارے گئے تھے۔
کیف کی فوجی انتظامیہ نے بیلسٹک میزائل وارننگ جاری کرنے کے بعد ایک گودام میں آگ لگنے کی اطلاع دی۔ ٹیلی گرام پر جاری بیان میں کہا گیا کہ ابتدائی معلومات کے مطابق ایک شخص ہلاک اور متعدد زخمی ہوئے ہیں۔ ملک کے جنوبی شہر زاپوریژیا میں ایک روسی ڈرون حملے میں ایک شخص جاں بحق اور چار زخمی ہو گئے، یہ اطلاع علاقائی فوجی انتظامیہ کے سربراہ ایوان فیدوروف نے دی۔
شاپنگ سینٹر پر حملے کے بعد امدادی کارروائیاں جاری
جمعہ کے روز روسی بمباری کے سلسلے میں یوکرین بھر میں کم از کم 20 افراد ہلاک ہوئے، جن میں سے 16 صدر ولادیمیر زیلنسکی کے آبائی شہر کریوی ریح میں ایک شاپنگ سینٹر پر دن دیہاڑے ڈرون حملے میں مارے گئے۔ علاقائی گورنر اولیکساندر گنجا کے مطابق امدادی کارروائیاں رات بھر جاری رہیں، اور نو افراد لاپتہ ہیں جن میں دو بچے شامل ہیں۔ امدادی حکام نے کم از کم 130 زخمیوں کی تصدیق کی ہے، جن میں 23 بچے ہیں۔
شہری اموات میں خطرناک اضافہ
روس کے یوکرین پر حملے کے ساڑھے چار سال بعد، دونوں اطراف سے طویل فاصلے تک مار کرنے والے حملوں میں تیزی آئی ہے۔ ان حملوں میں لاجسٹک گوداموں سمیت شہری تنصیبات کو تیزی سے نشانہ بنایا جا رہا ہے، جس کے نتیجے میں عام شہریوں کی اموات میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔
اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کے نگرانی مشن (HRMMU) کے مطابق جولائی کا مہینہ مئی 2022 کے بعد یوکرین میں شہریوں کے لیے سب سے مہلک ثابت ہوا، جس میں کم از کم 437 عام شہری مارے گئے۔ یہ تعداد جون کے مقابلے میں 30 فیصد اور جولائی 2025 کے مقابلے میں 70 فیصد زیادہ ہے۔ گزشتہ ماہ یوکرین کے دارالحکومت کو خاص طور پر بھاری نقصان اٹھانا پڑا، جہاں کم از کم 54 افراد ہلاک اور 202 زخمی ہوئے۔
بڑھتے ہوئے انسانی بحران پر عالمی تشویش
ماہرین کے مطابق روسی افواج کی جانب سے شہری آبادیوں اور بنیادی ڈھانچے کو مسلسل نشانہ بنانے کی حکمت عملی بین الاقوامی انسانی قوانین کی سنگین خلاف ورزی ہے۔ یوکرین کے حکام نے عالمی برادری سے اپیل کی ہے کہ وہ روس پر مزید پابندیاں عائد کرے اور یوکرین کو فضائی دفاعی نظام فراہم کرنے میں تیزی لائے۔
دریں اثنا، یوکرین کے صدر نے ان حملوں کو “دہشت گردی کی کارروائیاں” قرار دیتے ہوئے کہا کہ ملک اپنے شہریوں کے تحفظ کے لیے ہر ممکن اقدام جاری رکھے گا۔ انہوں نے جاں بحق ہونے والوں کے اہل خانہ سے تعزیت کا اظہار کیا اور زخمیوں کی جلد صحت یابی کے لیے دعا کی۔
یہ حملے اس بات کا واضح ثبوت ہیں کہ جنگ کے طویل ہونے کے ساتھ ساتھ شہریوں پر مظالم میں بھی اضافہ ہو رہا ہے، اور امن مذاکرات کی فوری ضرورت پہلے سے کہیں زیادہ بڑھ گئی ہے۔
