پیرس: فرانس کے بائیں بازو کے رہنما ژاں لوک میلانشون نے اتوار کو اپنی جماعت لا فرانس انسومیز (LFI) کے سالانہ موسم گرما اجلاس ’دی ایمفیس‘ میں 2027 کے صدارتی انتخابات کے لیے اپنی مہم کا نیا خاکہ پیش کیا۔ انہوں نے ایک ایسے موقع پر جب بائیں بازو میں امیدواروں کی تعداد بڑھ رہی ہے، اپنی حکمت عملی کے دو اہم ستون واضح کیے: ماحولیاتی تبدیلی کو اولین ترجیح بنانا اور قوم پرستانہ لہجہ اپنانا۔
ہجوم سے بھرے ہال میں ’صدر، صدر‘ کے نعروں کے درمیان اسٹیج پر پہنچنے والے میلانشون نے اپنے حامیوں کو بتایا کہ ’اب ہمارے لیے فتح ممکن ہے، نہ صرف ایک مقصد کے طور پر بلکہ ایک بے چین انتظار کے طور پر۔‘ ان کے پرجوش حامی، جیسے ایٹین، پہلے ہی پُراعتماد ہیں: ’سب کچھ تیار ہے۔ لوگ بہت پرجوش ہیں۔ یہ ہمارا 2027 کا موقع ہے، یہ ابھی ہے!‘
ماحولیات کو مہم کا مرکزی نکتہ بنانے کی کوشش
میلانشون نے اپنی تقریر کا مرکزی موضوع ماحولیات کو بنایا، جو ایک حکمت عملی پر مبنی فیصلہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ وہ ’موسمیاتی تناظر میں بیداری‘ پر زور دینا چاہتے ہیں۔ یہ اقدام ایک طرف تو ماحولیات پسند جماعت (Ecologists) کے ساتھ جاری اتحاد کے مذاکرات کو مضبوط کرنے کے لیے ہے، تو دوسری طرف انہیں صدارتی دوڑ میں ’ماحولیات کے سب سے بڑے حامی‘ کے طور پر پیش کرنے کی کوشش ہے۔
ان کا اصل ہدف انتہائی دائیں بازو کی جماعت نیشنل ریلی (RN) ہے جس پر موسمیاتی تبدیلی کے حوالے سے شکوک و شبہات پھیلانے کا الزام ہے۔ لیکن ان کی نظریں اپنے سب سے بڑے حریف ایڈورڈ فلپ پر بھی ہیں، جو رائے عامہ کے جائزوں میں دوسرے مرحلے میں پہنچنے کے لیے ان کے مدمقابل ہیں۔ میلانشون نے یاد دلایا کہ انہوں نے ہی ’ماحولیاتی منصوبہ بندی‘ کی اصطلاح کو عوامی زبان میں متعارف کرایا تھا، جبکہ صدر ایمانوئل میکخواں پر ’پیشگی منصوبہ بندی کی کمی‘ کا الزام لگایا۔
’ایکو ریجنز‘ کا نیا تصور
میلانشون نے اپنے ایک پرانے لیکن نظرانداز کیے گئے منصوبے ’ایکو ریجنز‘ کو دوبارہ پیش کیا۔ یہ منصوبہ فرانس کو دریاؤں اور ندیوں کے بہاؤ کی بنیاد پر نئے انتظامی خطوں میں تقسیم کرنے کا تصور ہے۔ یہ تجویز ان کے 2022 کے پروگرام میں بھی شامل تھی لیکن مہم میں نمایاں نہیں ہو سکی تھی۔ اب وہ اسے ’مؤثر ماحولیاتی منصوبہ بندی‘ کے لیے ’مرکزی‘ نکتہ بنانا چاہتے ہیں۔ انہوں نے اپنے حامیوں کو ہدایت کی کہ ’توجہ دیں‘ اور ’اسے دوسروں کو اچھی طرح سمجھانا سیکھیں‘۔
اپنی بات کو مضبوط کرنے کے لیے میلانشون نے سابق صدر ژاک شیراک کے 2002 کے مشہور ماحولیاتی انتباہ کا حوالہ دیا اور اسے اپنے انداز میں دہرایا: ’فرانس کا گھر، جمہوریہ، ٹوٹ رہا ہے اور جل رہا ہے۔ لیکن حکمران طبقے کے پاس آپ کو پیش کرنے کے لیے دوسرے جنون ہیں۔‘
حب الوطنی کا نیا لہجہ اور اختلافات
میلانشون کی مہم میں سب سے نمایاں تبدیلی حب الوطنی کے عناصر کا اضافہ ہے، جو ان ناقدین کا جواب ہے جو ان کی جماعت کو ’فرانس مخالف‘ قرار دیتے ہیں۔ اس بار اجلاس میں فرانسیسی پرچم بھی اتنے ہی نظر آئے جتنے LFI کے جھنڈے۔ تاہم، یہ حکمت عملی ان کی اپنی جماعت کے اندر بھی مکمل طور پر قبول نہیں ہوئی۔
کچھ حامیوں جیسے کرسٹیل اور بیپٹسٹ نے اسے ’انتہائی دائیں بازو کی اجارہ داری ختم کرنے‘ کے لیے ’بہترین‘ اور ’حکمت عملی کے لحاظ سے مضبوط‘ قرار دیا۔ لیکن آرنو جیسے کارکن اس سے متفق نہیں ہیں۔ ان کا کہنا تھا: ’میں یہاں فرانسیسی ہونے کو نمایاں نہیں کرنا چاہتا۔ میں بائیں بازو کا ہونا نمایاں کرنا چاہتا ہوں۔‘
تقریر کے اختتام پر جب قومی ترانہ ’لا مارسیئیز‘ بجایا گیا تو ہجوم نے صرف کورس پر گنگنایا، لیکن چند لمحوں بعد جب بائیں بازو کا ترانہ ’دی انٹرنیشنل‘ بجایا گیا تو جوش و خروش عروج پر تھا۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ میلانشون کو اپنی بنیاد کو قوم پرستانہ پیغام پر قائل کرنے کے لیے ابھی مزید محنت کرنی ہوگی۔
