اوٹاوا — کینیڈا کے وزیر اعظم مارک کارنی نے ہفتے کے روز واضح الفاظ میں اعلان کیا کہ ان کی حکومت نے امریکہ کے ساتھ تجارتی مذاکرات کے دوران فرانسیسی زبان اور کیوبیک کی ثقافت کے تحفظ پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا۔ یہ بیان اس وقت سامنے آیا جب واشنگٹن کے ساتھ مذاکرات معطل ہو چکے ہیں اور کینیڈا نے اپنے طاقتور ہمسائے کے خلاف جوابی اقدامات کا باقاعدہ آغاز کر دیا ہے۔
کارنی نے فرانسیسی زبان میں خطاب کرتے ہوئے کہا کہ امریکی مذاکرات کاروں نے زبان اور ثقافت سے جڑے متعدد حساس معاملات کو ایجنڈے پر لانے کی کوشش کی، جنہیں اوٹاوا نے سختی سے مسترد کر دیا۔ انہوں نے ان کوششوں کو “فرانسیسی زبان اور کیوبیک کی ثقافت کے خلاف دھمکیاں” قرار دیا۔
آخری لمحے تک دباؤ، کینیڈا کا دوٹوک انکار
وزیر اعظم نے امریکی فریق کو مخاطب کرتے ہوئے کہا: “ہمارے امریکی ساتھیوں کے لیے ایک بات بالکل صاف ہے: میرے لیے اور کینیڈا کے لیے یہ معاملات کبھی بھی مذاکرات کی میز پر نہیں تھے، حالانکہ امریکہ نے آخری لمحے تک انہیں اٹھانے کی کوشش کی۔”
انہوں نے مزید کہا کہ ایسا کوئی بھی مطالبہ “قابل قبول نہیں” ہے۔ حکام کے مطابق یہ دباؤ خاص طور پر تین اہم شعبوں پر مرکوز تھا:
- فرانکوفون ثقافت کے لیے دی جانے والی سرکاری سبسڈیز
- آن لائن فرانسیسی زبان کے ذرائع ابلاغ کی موجودگی اور اہمیت
- کینیڈا میں فروخت ہونے والی مصنوعات پر دو لسانی لیبل لگانے کی قانونی ذمہ داری
کینیڈا میں انگریزی اور فرانسیسی دونوں سرکاری زبانیں ہیں، اور کیوبیک میں فرانسیسی زبان کے تحفظ کو خصوصی آئینی اور ثقافتی اہمیت حاصل ہے۔
تجارتی مذاکرات کی ناکامی اور محصولات کی جنگ
زبان کا معاملہ اگرچہ مذاکرات میں ایک بڑی رکاوٹ بنا، لیکن یہ واحد وجہ نہیں تھی۔ کینیڈا اور امریکہ کئی ہفتوں سے ایک نئے تجارتی معاہدے پر بات چیت کر رہے تھے، جبکہ سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کینیڈین مصنوعات پر نئے محصولات عائد کرنے کی دھمکیاں دے رہے تھے۔ جمعہ کی رات بغیر کسی معاہدے کے مذاکرات معطل ہو گئے۔
مارک کارنی نے معطل شدہ مذاکرات پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ آخری دنوں میں پیش کی جانے والی نئی شرائط کینیڈا کے لیے “ایک برا سودا” تھیں۔ انہوں نے صورتحال کا خلاصہ ایک جملے میں یوں کیا: “انہوں نے بہت زیادہ مطالبہ کیا اور بدلے میں بہت کم پیشکش کی۔”
مذاکرات ٹوٹنے کے بعد امریکہ نے کینیڈین مصنوعات کی متعدد اقسام پر 50 فیصد نئے محصولات عائد کرنے کا اعلان کیا۔ جواب میں اوٹاوا نے فوری جوابی اقدامات کا اعلان کیا، جن کا اطلاق 8 ستمبر سے متوقع ہے۔ اس کے بعد امریکہ نے محصولات میں مزید اضافے کی دھمکی دی ہے، جو اس بات کا واضح اشارہ ہے کہ یہ تجارتی تنازع ابھی ختم ہونے سے بہت دور ہے۔
