یوکرین کے وسطی شہر کریوئی ریح میں جمعے کے روز روسی ڈرونز کے ایک شاپنگ سینٹر پر حملے میں کم از کم 16 افراد ہلاک اور 130 سے زائد زخمی ہو گئے۔ حکام کے مطابق زخمیوں میں 22 بچے بھی شامل ہیں۔ صدر ولادیمیر زیلنسکی نے اس حملے کو “بربریت کا فعل” قرار دیتے ہوئے جوابی کارروائی کا عندیہ دیا ہے۔
علاقائی گورنر اولیکسینڈر ہانزہ نے بتایا کہ دن کی روشنی میں ہونے والے اس حملے میں 29 افراد کی حالت تشویشناک ہے جن میں پانچ بچے شامل ہیں۔ انہوں نے ایک بڑی صنعتی عمارت سے اٹھتے سیاہ دھوئیں کی تصویر بھی شیئر کی۔
لاپتہ افراد کی تلاش جاری
ہفتے کی صبح ایک تازہ اپ ڈیٹ میں گورنر ہانزہ نے بتایا کہ ابتدائی طور پر نو افراد لاپتہ ہیں جن میں دو بچے شامل ہیں۔ امدادی کارکن شاپنگ سینٹر کے ملبے کو ہٹانے میں مصروف ہیں۔
صدر زیلنسکی نے اس حملے کو “انتہائی مذموم اور گھٹیا” قرار دیتے ہوئے کہا کہ پہلے ڈرون حملے کے آدھے گھنٹے بعد دوسرا روسی ڈرون اسی شاپنگ سینٹر پر گرا، جو ان کے بقول ایمرجنسی سروسز کو نشانہ بنانے کی دانستہ کوشش تھی۔
زیلنسکی نے ٹیلی گرام پر کہا، “اس طرح کے حملے دہشت گردی کی کارروائیوں سے کم نہیں ہیں۔” انہوں نے دنیا سے روس کو جوابدہ ٹھہرانے کی اپیل کرتے ہوئے کہا، “ہم ضرور جواب دیں گے۔”
مائیکولائیو میں بھی ڈرون حملہ
جمعے کے روز ایک اور حملے میں یوکرین کے جنوبی علاقے مائیکولائیو میں روسی ڈرون حملے میں تین بچوں سمیت کم از کم چار افراد ہلاک اور ایک خاتون زخمی ہو گئیں۔ یوکرین کے سرکاری میڈیا نے ٹیلی گرام پر یہ اطلاع دی۔
روس یوکرین کے خلاف اپنی فضائی جنگ تیز کر رہا ہے جبکہ میدان جنگ میں لڑائی ساڑھے چار سال کی مدت کو چھو رہی ہے۔ جمعرات کو یوکرین کے دارالحکومت کیف پر روسی بیلسٹک میزائل حملے میں 17 افراد ہلاک ہو گئے تھے۔
یوکرین نے بھی روس پر اپنے حملے بڑھا دیے ہیں، جن میں تیل کی تنصیبات اور لاجسٹکس انفراسٹرکچر کو نشانہ بنایا جا رہا ہے تاکہ ماسکو کی جنگ لڑنے کی صلاحیت کو کمزور کیا جا سکے۔
