اسلام آباد: حکومت پاکستان نے پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے بانی عمران خان کی صحت اور جیل میں حالات سے متعلق غیر ملکی میڈیا میں شائع ہونے والی خبروں کو گمراہ کن اور حقائق کے منافی قرار دیتے ہوئے مسترد کر دیا ہے۔ وزارت اطلاعات و نشریات کا کہنا ہے کہ سرکاری ریکارڈ اس دعوے کی تائید نہیں کرتے کہ عمران خان کو قید تنہائی میں رکھا گیا ہے یا انہیں طبی علاج سے محروم رکھا جا رہا ہے۔
ہفتہ کو جاری کیے گئے ایک بیان میں وزارت اطلاعات نے کہا کہ سزا یافتہ قیدی کو مبینہ طور پر تنہائی میں رکھنے، ناروا سلوک یا بنیادی سہولتوں سے محروم رکھنے کے الزامات جھوٹا پروپیگنڈا ہیں۔ وزارت کا مؤقف ہے کہ عمران خان عدالتوں کی طرف سے سنائی گئی سزاؤں کے تحت قید ہیں اور انہیں جیل کے اندر تمام قانونی سہولتیں فراہم کی جا رہی ہیں۔
جیل میں فراہم کی جانے والی سہولیات کا تفصیلی ذکر
وزارت اطلاعات کے مطابق سابق وزیراعظم کو جیل میں ملاقاتیوں، ٹیلی فون کالز، مطالعے کا مواد، ٹیلی ویژن، گھر کا پکا ہوا کھانا اور ورزش کا سامان فراہم کیا گیا ہے۔ بیان میں کہا گیا کہ عمران خان کو ایک مخصوص سات سیلوں پر مشتمل کمپاؤنڈ میں رکھا گیا ہے جہاں سونے، صفائی ستھرائی اور ورزش کی مکمل سہولیات موجود ہیں۔
وزارت نے ان خبروں کی بھی تردید کی کہ عمران خان کو اہل خانہ سے رابطے سے محروم رکھا گیا ہے۔ سرکاری اعداد و شمار کے مطابق جیل ریکارڈ میں تقریباً 198 انٹرویو سیشنز درج ہیں جن میں 900 سے زائد ملاقاتی اندراجات شامل ہیں، جن میں ان کی بہنیں، رشتہ دار، وکلاء، ڈاکٹرز اور سیاسی نمائندے شامل ہیں۔ بیان میں بتایا گیا کہ انہیں اپنی اہلیہ سے ہفتہ وار ملاقات کی بھی اجازت ہے اور اس سلسلے میں تازہ ترین ملاقات 4 اگست کو ریکارڈ کی گئی۔
فون کالز اور خاندان سے رابطے کا ریکارڈ
حکام کا کہنا ہے کہ جیل ریکارڈ میں ٹیلی فون، لینڈ لائن اور واٹس ایپ کے ذریعے پاکستان اور بیرون ملک موجود اہل خانہ سے رابطوں کی تفصیلات بھی موجود ہیں، جن میں 21 مارچ کو ان کے ایک بیٹے سے ٹیلی فونک گفتگو بھی شامل ہے۔ ان کی بہنوں سے ملاقاتیں 18، 19 اور 25 اگست کو ریکارڈ کی گئیں۔
طبی معائنے اور علاج کی تفصیلات
حکومت نے ان الزامات کو بھی مسترد کیا کہ عمران خان کو مناسب طبی سہولتیں فراہم نہیں کی گئیں۔ وزارت اطلاعات کے مطابق عمران خان کی قید کے بعد سے اب تک تقریباً 30 طبی معائنے کیے جا چکے ہیں، جو پمز، شفا انٹرنیشنل، شوکت خانم اور الشفا ٹرسٹ آئی ہسپتال کی ماہر ٹیموں اور میڈیکل بورڈز نے انجام دیے، اس کے علاوہ جیل کے ڈاکٹر کی جانب سے بھی معمول کے طبی جائزے جاری ہیں۔
بیان میں کہا گیا کہ عمران خان کو آنکھوں کے پردے کی بیماری (ریٹنا) کے لیے ماہرین کا علاج فراہم کیا گیا، جس میں پانچ اینٹی وی ای جی ایف انجیکشنز، ریٹنا امیجنگ، ادویات اور فالو اپ مشاورتیں شامل ہیں۔ جولائی اور 21 اگست کو کیے گئے طبی جائزوں میں انہیں ہوش و حواس میں درست اور مستحکم قرار دیا گیا، جبکہ صحت میں کسی بھی قسم کی شدید یا غیر منظم بگاڑ ریکارڈ نہیں کی گئی۔
عمران خان کی بہن کا بیان اور عدالتی ہدایات
وزارت اطلاعات نے عمران خان کی بہن ڈاکٹر عظمیٰ نیازی سے منسوب بیان کا بھی حوالہ دیا، جنہوں نے مبینہ طور پر انہیں سو فیصد تندرست قرار دیا، بلڈ پریشر 120/80 بتایا اور کہا کہ ان کی آنکھوں کی حالت تقریباً مکمل طور پر ٹھیک ہو چکی ہے۔
وزارت کا کہنا تھا کہ عمران خان کے طبی معائنے اور علاج سے متعلق سپریم کورٹ کی ہدایات پر عمل درآمد کیا گیا ہے اور معائنے کے دوران ان کی بہن بھی موجود تھیں۔ حکومت نے مزید نشاندہی کی کہ سپریم کورٹ نے عمران خان کے اہل خانہ، پی ٹی آئی اور وکلاء کو ہدایت کی ہے کہ وہ زیر التوا کارروائی کے دوران ان کی طبی حالت یا رپورٹس کو میڈیا کے ساتھ شیئر نہ کریں۔
صحت کا جائزہ میڈیکل ریکارڈ کی بنیاد پر ہونا چاہیے
حکومت نے کہا کہ عمران خان کی صحت کا جائزہ سیاسی دعوؤں کی بجائے طبی ریکارڈ اور عدالتی ہدایات کی روشنی میں لیا جانا چاہیے۔ وزارت نے واضح کیا کہ جیل کے قوانین، عدالتی احکامات اور سیکیورٹی تقاضوں کے تحت ملاقاتوں اور رابطوں کو منظم کرنے کو رسائی سے انکار کے طور پر پیش نہیں کیا جانا چاہیے۔
بیٹوں کے پاکستان آنے سے متعلق وضاحت
ان اطلاعات کے جواب میں کہ عمران خان کے بیٹے ان سے ملنے کے لیے پاکستان کا سفر نہیں کر سکتے، وزارت اطلاعات نے کہا کہ دونوں بیٹوں کے پاس بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کے لیے قومی شناختی کارڈ موجود ہیں، جنہیں ملک میں داخلے کے لیے تسلیم شدہ سفری دستاویزات قرار دیا جاتا ہے۔
وزارت اطلاعات نے غیر ملکی میڈیا اداروں پر زور دیا کہ وہ تصدیق شدہ حراستی اور طبی ریکارڈ اور سیاسی طور پر متنازع الزامات کے درمیان فرق کریں۔
