پیرس: فرانس نے رواں سال موسمیاتی تاریخ کا سب سے زیادہ گرم موسم گرما ریکارڈ کیا ہے، جس میں 52 دن تک جاری رہنے والی گرمی کی لہروں نے ملک بھر میں درجہ حرارت کے تمام سابقہ ریکارڈز کو پیچھے چھوڑ دیا۔
موسمیاتی ماہرین کے مطابق اس سال کی شدید گرمی کی شدت اور طوالت دونوں ہی بے مثال رہی ہیں۔ تین بڑی گرمی کی لہروں نے ملک کو اپنی لپیٹ میں لیا، جن میں سے ایک شدت کے اعتبار سے اب تک کی سب سے زیادہ طاقتور تھی، جبکہ دوسری نے 1983 کے ساتھ مشترکہ طور پر سب سے طویل دورانیے کا ریکارڈ قائم کیا۔
تاریخی درجہ حرارت اور خشک سالی
موسم گرما کے دوران دن اور رات دونوں اوقات میں ہزاروں نئے درجہ حرارت کے ریکارڈ قائم ہوئے۔ بارش کی مقدار بھی غیر معمولی طور پر کم رہی، جس سے خشک سالی کے خدشات میں مزید اضافہ ہوا۔ مجموعی طور پر یہ موسم گرما 2003 اور 2022 کے بدنام زمانہ گرم موسموں کو بھی پیچھے چھوڑ گیا۔
انسٹی ٹیوٹ فار ریسرچ اینڈ ڈویلپمنٹ کی ڈائریکٹر ریسرچ فرانسواز ویمو نے صورتحال کی وضاحت کرتے ہوئے کہا: “گرمی کا گنبد واقعی فرانس پر مرکوز تھا۔ اگر یہ جان بوجھ کر ہم پر اترنا چاہتا تو بھی اس سے بہتر طریقے سے نہیں اتر سکتا تھا۔”
مستقبل کے لیے انتباہ
ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ یہ تاریخی موسم گرما محض ایک آغاز ہے۔ موسمیاتی تبدیلیوں کے باعث فرانس اور یورپ کے دیگر ممالک کو مستقبل میں اس قسم کی شدید گرمی کی لہروں کا زیادہ کثرت سے سامنا کرنا پڑے گا۔
جنوبی فرانس میں نئے تعلیمی سال کے آغاز والے ہفتے میں درجہ حرارت میں مزید اضافے کی پیشگوئی کی گئی ہے، جس سے گرمی کی ایک اور ممکنہ لہر کا خطرہ پیدا ہو گیا ہے۔
ملک بھر میں اثرات
شدید گرمی کے ساتھ ساتھ ملک کے مختلف حصوں میں طوفانی بارشوں اور ژالہ باری کے واقعات بھی رونما ہوئے، جن میں درخت گرنے سے تین افراد زخمی بھی ہوئے۔ تاہم فائر بریگیڈ حکام کے مطابق طوفانوں کی صورتحال ابھی تک “تشویشناک حد تک نہیں پہنچی”۔
موسمیاتی سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ “گزرا ہوا موسمی دور اب واپس نہیں آئے گا” اور فرانس کو مستقبل میں اس سے بھی زیادہ شدید موسمی حالات کے لیے تیار رہنا ہوگا۔
