پیانگ یانگ: شمالی کوریا کے سپریم لیڈر کم جونگ اُن نے ملک کے وزیر دفاع نو کوانگ چول کو عہدے سے ہٹا دیا ہے۔ یہ اقدام فوجی ہائی کمان کی وسیع تنظیم نو کے تحت اٹھایا گیا جس کا اعلان سرکاری خبر رساں ایجنسی کے سی این اے نے اتوار کو کیا۔
سرکاری میڈیا کے مطابق ہفتے کو کم جونگ اُن کی زیر صدارت منعقدہ اجلاس میں نو کوانگ چول کو اقتدار میں شریک ورکرز پارٹی کی مرکزی قیادت سے بھی خارج کر دیا گیا۔ انہیں اسلحہ سازی کے شعبے کا پہلا نائب ڈائریکٹر مقرر کیا گیا ہے۔
نئی تقرریاں اور اہم تبدیلیاں
فوج کے جنرل پولیٹیکل بیورو کے ڈائریکٹر کم سون گی کو نو کوانگ چول کی جگہ نیا وزیر دفاع بنایا گیا ہے۔ وزارت کے مشیر پاک جونگ چون کو ورکرز پارٹی کی مرکزی فوجی کمیشن کا نائب چیئرمین مقرر کیا گیا ہے۔
فضائیہ کے سیاسی کمشنر اوم جو ہو کو پارٹی کی مرکزی کمیٹی کا رکن جبکہ فوج کے سیکیورٹی بیورو کے ڈائریکٹر یو کوانگ یو کو پارٹی کے پولیٹیکل بیورو کا رکن نامزد کیا گیا ہے۔
بڑھتے ہوئے فوجی عزائم اور روس سے قربت
یہ رد و بدل ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب جوہری ہتھیاروں کی حامل شمالی کوریا اپنی عسکری صلاحیتوں کے حوالے سے بڑھتے ہوئے عزائم کا اظہار کر رہی ہے۔ یہ تبدیلی روس کے ساتھ بڑھتی ہوئی قربت کے پس منظر میں بھی ہوئی ہے۔
ایک علیحدہ رپورٹ میں کے سی این اے نے بتایا کہ کم جونگ اُن نے دفاعی ٹیکنالوجی میں پیش رفت پر سائنسدانوں، محققین اور حکام کو قومی اعزازات سے نوازا۔ ایجنسی کے مطابق ان افراد کو نئے جنگی ہتھیاروں کے نظام کی تیاری میں انتہائی اہم سائنسی اور تکنیکی مسائل حل کرنے پر اعزازات دیے گئے۔
جون میں کم جونگ اُن نے نئے ملٹی راکٹ لانچر اور گولہ بارود کے تجربات کی نگرانی کی تھی۔ وہ اکثر ایسے مواقع پر نظر آتے ہیں جن کا مقصد اپنی فوج کی نئی صلاحیتوں کا مظاہرہ کرنا ہوتا ہے۔
جنوبی کوریا اور امریکہ کی مشترکہ مشقوں کے بعد تبدیلی
یہ تنظیم نو جنوبی کوریا اور امریکہ کی سالانہ مشترکہ فوجی مشقوں کے اختتام کے ایک ہفتے سے کچھ زیادہ عرصے بعد سامنے آئی ہے۔ پیانگ یانگ ان مشقوں کو حملے کی تیاری قرار دیتا ہے۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کم جونگ اُن کے ساتھ تعلقات بہتر بنانے کی کوششوں کے تحت ان مشقوں کے حجم میں نمایاں کمی کی تھی۔ ٹرمپ اپنے پہلے دور صدارت میں کم جونگ اُن سے تین بار ملاقات کر چکے ہیں۔
جوہری ہتھیار بطور زندگی کی ضمانت
شمالی اور جنوبی کوریا تکنیکی طور پر اب بھی حالت جنگ میں ہیں کیونکہ 1950 سے 1953 تک جاری رہنے والا تنازع جنگ بندی پر ختم ہوا تھا، امن معاہدے پر نہیں۔
شمالی کوریا نے 2023 میں اپنے آئین میں جوہری طاقت کی حیثیت کو ناقابل واپسی قرار دے دیا تھا۔ یہ اصول کم جونگ اُن نے ایک سال قبل اعلان کیا تھا۔ ملک اپنے جوہری ہتھیاروں اور بیلسٹک میزائل پروگراموں کی وجہ سے بین الاقوامی پابندیوں کا سامنا کر رہا ہے۔
پیانگ یانگ اپنے جوہری ہتھیاروں کے ذخیرے کو، جن کی تعداد چند درجن بتائی جاتی ہے، کسی بھی حملے یا حکومت کی تبدیلی کی کوشش کے خلاف زندگی کی ضمانت سمجھتا ہے۔ حالیہ مہینوں میں امریکہ کی جانب سے ایران اور وینزویلا کے خلاف فوجی کارروائیوں نے اس سوچ کو مزید تقویت دی ہے۔
روس کے ساتھ بڑھتا ہوا تعاون
شمالی کوریا نے حالیہ برسوں میں روس کے ساتھ اپنے تعلقات میں نمایاں اضافہ کیا ہے۔ ماسکو اور پیانگ یانگ نے 2024 میں دفاعی معاہدہ کیا تھا۔
2024 سے 2025 کے دوران ہزاروں شمالی کوریائی فوجیوں نے روس کے کورسک علاقے میں یوکرینی افواج کے خلاف لڑائی میں حصہ لیا۔ ماہرین کے مطابق یوکرین تنازع میں پیانگ یانگ کی شمولیت سے اسے اقتصادی اور فوجی فوائد کے ساتھ ساتھ میدان جنگ کا تجربہ بھی حاصل ہو رہا ہے۔
