ماسکو — روس نے اتوار کے روز اعلان کیا کہ وہ یوکرین کے توانائی کے شعبے سے منسلک تنصیبات پر بڑے پیمانے پر حملوں کی تیاری کر رہا ہے۔ یہ اعلان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب دونوں ممالک کے درمیان طویل فاصلے تک مار کرنے والے حملوں میں گزشتہ کئی مہینوں سے واضح اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔
روسی وزارت دفاع نے ٹیلی گرام پر جاری ایک بیان میں کہا کہ یہ کارروائی یوکرین کی جانب سے روس کے شہری انفراسٹرکچر اور تیل و توانائی کے کمپلیکس پر مسلسل حملوں کے جواب میں کی جا رہی ہے۔
کیف میں رات گئے حملے، 37 افراد ہلاک
روسی فوج نے اتوار کو دعویٰ کیا کہ اس نے کیف میں رات کے دوران ایک ایسے کارخانے کو نشانہ بنایا جو ایسبسٹوس اور سیمنٹ تیار کرتا تھا، اور جس کے گودام ماسکو کے مطابق دھماکہ خیز مواد ذخیرہ کرنے کے لیے استعمال ہو رہے تھے۔ اس کے علاوہ ڈرون اور گولہ بارود بنانے والی ایک فیکٹری کو بھی نشانہ بنایا گیا۔
اس سے ایک روز قبل کیف کے مضافات میں ایک گولہ بارود کے ڈپو پر روسی حملے میں زبردست دھماکا ہوا تھا جس میں کم از کم 37 افراد ہلاک ہو گئے تھے۔
یوکرین کا جوابی حملہ
دوسری جانب یوکرین نے بھی رات کے دوران شمال مغربی روس میں ایک آئل ریفائنری پر ڈرون حملہ کیا، جس کے نتیجے میں آگ بھڑک اٹھی۔ مقامی حکام نے اس حملے کی تصدیق کی ہے۔
گزشتہ موسم سرما کے دوران ماسکو نے یوکرین کے پاور پلانٹس پر متعدد حملے کیے تھے، جس سے ملک کا توانائی کا شعبہ تباہ ہو گیا تھا اور لاکھوں افراد سردی اور اندھیرے میں ڈوب گئے تھے۔
طویل فاصلے کے حملوں میں خطرناک اضافہ
روس اور یوکرین دونوں گزشتہ کئی مہینوں سے طویل فاصلے تک مار کرنے والے حملوں میں مصروف ہیں۔ ان حملوں میں شہری انفراسٹرکچر جیسے گودام، تجارتی مراکز، تیل کی تنصیبات، بندرگاہیں اور بحری جہاز تیزی سے نشانہ بن رہے ہیں۔
ان حملوں کے نتیجے میں عام شہریوں کی ہلاکتیں بھی معمول بنتی جا رہی ہیں، جس سے انسانی بحران مزید گہرا ہوتا جا رہا ہے۔
توانائی کے شعبے پر بڑھتا دباؤ
یوکرین کا توانائی کا بنیادی ڈھانچہ پہلے ہی شدید دباؤ کا شکار ہے۔ روسی حملوں کے باعث بجلی کی فراہمی میں بار بار خلل پڑتا رہا ہے، جس سے عام زندگی بری طرح متاثر ہوئی ہے۔
مبصرین کے مطابق روس کی جانب سے توانائی کی تنصیبات کو نشانہ بنانے کا مقصد یوکرین کی جنگی صلاحیت کو کمزور کرنے کے ساتھ ساتھ عوام کے حوصلے پست کرنا بھی ہے۔
یہ صورت حال ظاہر کرتی ہے کہ جنگ ایک نئے اور زیادہ تباہ کن مرحلے میں داخل ہو چکی ہے، جہاں دونوں فریق ایک دوسرے کے اہم انفراسٹرکچر کو منہدم کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔
