ماسکو: روس 2027 تک ایک نیا کروز میزائل ڈین-ٹی تیار کرنے کا ارادہ رکھتا ہے، جسے خاص طور پر یوکرین کے فضائی دفاعی نظام کو کمزور کرنے کے لیے ڈیزائن کیا گیا ہے۔ یوکرینی حکومت کے سرکاری پلیٹ فارم یونائیٹڈ 24 کے مطابق، ماسکو اگلے سال یوکرین پر حملوں کے لیے تقریباً 10 ہزار جدید ڈین-ٹی میزائل تیار کرنا چاہتا ہے۔
یوکرینی فوجی تجزیہ کار دیمیترو پوتیاتا نے خبردار کیا ہے کہ ان سستے اور مشکل سے روکے جانے والے میزائلوں کی وجہ سے بہت زیادہ مسائل پیدا ہوں گے۔ انہوں نے کہا کہ روسی افواج کا مقصد یوکرین کے فضائی دفاع کو تھکا دینا اور اسے غیر موثر بنانا ہے۔
بینڈرول میزائل کا سستا متبادل
ڈین-ٹی میزائل کو روسی فضائی افواج کی کمانڈ نے بینڈرول سسٹم کے متبادل کے طور پر تیار کیا ہے۔ بینڈرول میزائل روس کی جانب سے یوکرین کے فضائی دفاع کو سیر کرنے کے لیے بڑے پیمانے پر استعمال کیا جاتا رہا ہے۔
نئے میزائل کی سب سے اہم خصوصیت اس کی کم لاگت ہے۔ ڈین-ٹی کی تیاری بینڈرول کے مقابلے میں تقریباً 35 فیصد سستی ہے، جبکہ اس کی کارکردگی اور تباہی کی صلاحیت وہی رہتی ہے۔
تکنیکی خصوصیات اور لانچ پلیٹ فارم
ڈین-ٹی کروز میزائل کی رینج 500 کلومیٹر ہے اور اس کا وار ہیڈ 135 کلوگرام وزنی ہے۔ یہ بکتر بند گاڑیوں، مضبوط فوجی پوزیشنوں اور ہلکی تنصیبات کو نشانہ بنانے کے لیے ڈیزائن کیا گیا ہے۔
یہ میزائل زمینی اور فضائی دونوں پلیٹ فارمز سے لانچ کیا جا سکتا ہے۔ اسے پہیوں والے ٹرک چیسس پر نصب لانچر کے علاوہ لڑاکا طیاروں Su-30SM، Su-34 اور Su-57 کے ساتھ ساتھ Mi-28 ہیلی کاپٹروں سے بھی فائر کیا جا سکتا ہے۔
جدید ٹیکنالوجی کی تنصیب جاری
فی الحال ڈین-ٹی میزائل کو کومیتا-16 اینٹینا نیٹ ورک اور الیکٹرو آپٹیکل ٹرمینل گائیڈنس سسٹم سے لیس کرنے پر کام جاری ہے۔ روسی حکام نے اس حوالے سے ابھی تک کوئی باضابطہ بیان جاری نہیں کیا۔
فوجی ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ میزائل اپنی کم قیمت اور آسان تیاری کے باعث روس کو بڑی تعداد میں حملے کرنے کی صلاحیت دے گا، جس سے یوکرین کے فضائی دفاع پر دباؤ مزید بڑھ جائے گا۔
