کوئٹہ: بلوچستان کے وزیر اعلیٰ سرفراز بگٹی نے ہیگ میں قائم مستقل ثالثی عدالت کی جانب سے انڈس واٹر ٹریٹی کے حوالے سے دیے گئے متفقہ فیصلے کو پاکستان کے لیے ایک بڑی قانونی اور سفارتی کامیابی قرار دیا ہے۔
اپنے ایک بیان میں سرفراز بگٹی نے کہا کہ اس فیصلے نے اس بات کی توثیق کی ہے کہ انڈس واٹر ٹریٹی بدستور نافذ العمل ہے اور بھارت اس معاہدے کے تحت اپنی قانونی ذمہ داریوں کا پابند ہے۔
پاکستان کے دیرینہ آبی حقوق کا تحفظ
وزیر اعلیٰ بلوچستان نے کہا کہ یہ فیصلہ پاکستان کے دیرینہ آبی حقوق کے تحفظ میں ایک اہم پیش رفت کی نمائندگی کرتا ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ انڈس واٹر ٹریٹی پاکستان کے لیے محض ایک دو طرفہ معاہدہ نہیں بلکہ ملک کے آبی وسائل اور قومی مفادات سے جڑا ایک اہم بین الاقوامی قانونی ڈھانچہ ہے۔
سرفراز بگٹی کے مطابق متفقہ فیصلے نے پاکستان کے اس مؤقف کو مزید مضبوط کیا ہے کہ بین الاقوامی معاہدوں کے تمام فریق اپنے وعدوں کا احترام کرنے کے ذمہ دار ہیں۔
بین الاقوامی قانون کی بالادستی کا اصول
انہوں نے مزید کہا کہ یہ فیصلہ بین الاقوامی معاہدوں کے احترام، بین الاقوامی قانون کی بالادستی اور ریاستوں کے درمیان طے پانے والے معاہدوں کی پاسداری کے اصولوں کو مزید تقویت دیتا ہے۔
وزیر اعلیٰ نے واضح کیا کہ پاکستان اپنے آبی حقوق کے تحفظ کے لیے آئینی، قانونی اور سفارتی ذرائع استعمال کرتا رہے گا۔
مستقبل کے آبی تنازعات کے لیے اہم نظیر
سرفراز بگٹی نے ثالثی عدالت کے فیصلے کو پاکستان کے دیرینہ مؤقف کی توثیق قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ بین الاقوامی قانون اور طے شدہ معاہدوں کے مطابق آبی تنازعات کے حل کی اہمیت کو اجاگر کرتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ معاہدے کی قانونی حیثیت کی توثیق پاکستان کے لیے ایک اہم پیش رفت ہے اور یہ خطے میں مستقبل کے آبی تنازعات سے نمٹنے میں بین الاقوامی قانونی اصولوں کی اہمیت کو واضح کرتی ہے۔
