پیرس: یکم ستمبر کی صبح آپ کی بیٹی اپنے نئے بیگ کے ساتھ اسکول کے دروازے پر کھڑی مسکرا رہی ہے، اور آپ کا بیٹا اپنے لنچ باکس کو تھامے خوشی سے جھوم رہا ہے۔ یہ منظر دل کو چھو لینے والا ہے، لیکن اس سے پہلے کہ آپ انسٹاگرام اسٹوری یا فیس بک پر ان کی تصویر پوسٹ کریں، چند لمحے رک کر سوچ لیں۔ کیونکہ “شیرنٹنگ” یعنی والدین کا بچوں کی تصاویر آن لائن شیئر کرنا، کسی بھی طرح خطرات سے خالی نہیں ہے۔
ماہرین کے مطابق، سب سے بڑا خطرہ یہ ہے کہ یہ تصاویر آسانی سے غلط مقاصد کے لیے استعمال ہو سکتی ہیں۔ فرانسیسی تنظیم ای-اینفنس نے گزشتہ تعلیمی سال کے موقع پر جاری کردہ دستاویز میں واضح کیا کہ جو کچھ آپ آن لائن پوسٹ کرتے ہیں وہ “اب واقعی آپ کا نہیں رہتا”۔ آن لائن پوسٹ کی گئی تصاویر کو آپ کی اجازت کے بغیر جعلی پروفائل بنانے یا تصویری ڈیٹا بیس کو بھرنے کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے، جس میں بچوں کے استحصال کے نیٹ ورک بھی شامل ہیں۔
بچوں کی تصاویر کا غلط استعمال: ایک تلخ حقیقت
فاؤنڈیشن فار چائلڈہڈ کی ایک رپورٹ کے مطابق، پیڈو کرمنل فورمز پر تبادلہ کی جانے والی بچوں کی 50 فیصد تصاویر یا ویڈیوز اصل میں والدین نے ہی سوشل میڈیا پر پوسٹ کی تھیں۔ فرانس کی ڈیٹا پروٹیکشن اتھارٹی سی این آئی ایل نے خبردار کیا ہے کہ صرف پرائیویٹ پروفائل رکھنا بھی خطرات سے بچاؤ کے لیے کافی نہیں ہے۔ اگر آپ کے کسی رابطے نے تصویر کو عوامی طور پر یا دوسرے “دوستوں” کے ساتھ شیئر کر دیا تو بدنیت افراد پھر بھی اسے حاصل کر سکتے ہیں۔
چہرے پر ایموجی لگانا بھی کافی نہیں
مصنوعی ذہانت کے دور میں تصاویر کے غلط استعمال کے نئے خطرات بھی جنم لے چکے ہیں۔ سی این آئی ایل کے مطابق، اے آئی نے “ڈیپ فیک” یا ہائپر ٹرکریز کی تخلیق کو آسان بنا دیا ہے، جس کے ذریعے سوشل میڈیا پر پوسٹ کی گئی تصاویر سے نابالغ بچوں کی جعلی عریاں تصاویر بنائی جا سکتی ہیں۔ ایسے مواد کو بعد میں ہٹانا انتہائی مشکل یا ناممکن ہو جاتا ہے۔
سائبر سیکیورٹی ماہر لیزا وینٹورا نے برطانوی اخبار دی انڈیپنڈنٹ کو بتایا کہ اگر آپ اپنے بچے کے چہرے پر ایموجی لگا کر تصویر شیئر کرتے ہیں تب بھی محتاط رہنے کی ضرورت ہے۔ “چہرہ چھپا کر بھی آپ بہت ساری معلومات شیئر کر رہے ہوتے ہیں،” جیسے بچے کی تخمینی عمر، اسکول آنے جانے کا وقت، اسکول کا مقام، اور اس کی دلچسپیاں۔ آپ کے پروفائل پر موجود دیگر تصاویر اور معلومات کے ساتھ ملا کر یہ ڈیٹا آپ کے خاندان کی پرائیویسی کو بے نقاب کر سکتا ہے۔
والدین کے لیے ضروری احتیاطی تدابیر
پوسٹ کرنے سے پہلے کچھ احتیاطی تدابیر اپنانا ضروری ہے۔ سی این آئی ایل کی سفارش ہے کہ بچوں کی تصاویر تمام فالوورز کے ساتھ شیئر کرنے کے بجائے انہیں نجی طور پر قریبی رشتہ داروں کو بھیجیں۔ یہ واٹس ایپ گروپ، میسنجر گفتگو، یا شیئرڈ کلاؤڈ کے ذریعے کیا جا سکتا ہے۔ ای-اینفنس تو کاغذی البم بنانے کا مشورہ بھی دیتی ہے۔
- ایسی تصاویر سے گریز کریں جن میں چہرہ، نام، یونیفارم یا قابل شناخت مقامات نظر آئیں
- کبھی بھی ایسی تصویر پوسٹ نہ کریں جس میں بچہ شرمناک، کمزور یا نجی حالت میں ہو
- چھٹیوں کی تصاویر میں سوئمنگ سوٹ والی تصاویر سے پرہیز کریں
بچے کی رضامندی اور قانونی تحفظ
سی این آئی ایل اس بات پر زور دیتی ہے کہ بچے کی تصویر یا ویڈیو پوسٹ کرنے سے پہلے اس سے بات کرنا اور اس کی عمر اور سمجھ کے مطابق اس کی رضامندی حاصل کرنا ضروری ہے۔ فرانس میں 19 فروری 2024 کا قانون بچوں کے تصویری حقوق کے تحفظ کو یقینی بناتا ہے۔ یہ قانون والدین پر لازم قرار دیتا ہے کہ وہ بچے کی پرائیویسی اور اس کے تصویری حق کا احترام کریں۔ والدین کے درمیان اختلاف کی صورت میں فیملی کورٹ کا جج مداخلت کر سکتا ہے۔
بعد میں بھی صفائی ممکن ہے
سی این آئی ایل کے مطابق، اگرچہ پہلے سے زیادہ سے زیادہ احتیاط بہتر ہے، لیکن بعد میں بھی صفائی کی جا سکتی ہے۔ اپنے سوشل میڈیا فالوورز کی فہرست کو باقاعدگی سے چیک کریں تاکہ نامعلوم افراد آپ کو فالو نہ کر رہے ہوں۔ کچھ ایپلی کیشنز محدود گروپ بنانے کی سہولت دیتی ہیں جہاں زیادہ نجی تصاویر شیئر کی جا سکتی ہیں۔
لیزا وینٹورا نے ایک واضح موازنہ پیش کیا ہے: “اگر آپ اس تصویر کا فزیکل ورژن سڑک پر کسی اجنبی کو نہیں دیں گے تو اسے آن لائن پوسٹ نہ کریں۔”
