پٹایا، تھائی لینڈ: نو ماہ سے زائد عرصے تک سمندر میں گزارنے کے بعد امریکی طیارہ بردار جہاز یو ایس ایس ابراہم لنکن منگل اور بدھ کی درمیانی شب تھائی لینڈ کی ساحلی تفریح گاہ پٹایا پہنچ رہا ہے۔ جہاز کے پانچ ہزار ملاحوں کے لیے یہ ایک طویل اور صبر آزما سفر کا اختتام ہے۔
چونبوری صوبے کے گورنر ناریت نیرامائی وونگ نے خبر رساں ادارے اے ایف پی کو بتایا کہ جہاز کی آمد کے موقع پر تقریباً چھ سو اہلکار سیکیورٹی اور ضروری امداد فراہم کرنے کے لیے تعینات کیے جائیں گے۔ پٹایا وہی مقام ہے جہاں ویتنام جنگ کے دوران امریکی فوجی چھٹیاں گزارنے آیا کرتے تھے۔
طویل ترین مشن اور متنازع حالات
یہ ایٹمی طاقت سے چلنے والا جہاز 21 نومبر 2025 کو سان ڈیاگو، کیلیفورنیا سے جنوبی چین سمندر میں مشن کے لیے روانہ ہوا تھا۔ بعد ازاں اسے مشرق وسطیٰ کی طرف موڑ دیا گیا، جہاں 28 فروری کو امریکہ اور اسرائیل نے ایران کے خلاف جنگ شروع کی۔
جہاز پر خوراک کی قلت، پلمبنگ کے مسائل اور مایوس ملاحوں کی جانب سے جہاز سے چھلانگ لگانے کی دھمکیوں جیسی اطلاعات نے امریکہ میں شدید تنقید کو جنم دیا، خاص طور پر اس وقت جب ایران تنازع امریکی عوام میں تیزی سے غیر مقبول ہو رہا ہے۔
مقامی معیشت کے لیے امید کی کرن
پٹایا کے میئر پوراماس نگامپیچس کے مطابق، 285 دن سمندر میں گزارنے کے بعد یو ایس ایس ابراہم لنکن آدھی رات کے فوراً بعد لایم چابانگ بندرگاہ پر لنگر انداز ہوگا اور اتوار کی شام تک وہیں رہے گا۔ انہیں امید ہے کہ اس قیام سے مقامی معیشت میں 100 ملین بھات (تقریباً 2.6 ملین یورو) کا اضافہ ہوگا۔
میئر نے کہا کہ جہاز کے عملے نے گزشتہ 200 دنوں سے کوئی رقم خرچ نہیں کی، اس لیے یہ مقامی تاجروں کے لیے سنہری موقع ہے۔ تاہم انہوں نے تاجروں پر زور دیا کہ وہ قیمتیں نہ بڑھائیں اور ملاحوں کا استحصال نہ کریں۔
سخت پابندیاں اور حفاظتی اقدامات
منتخب عہدیدار نے واضح کیا کہ ملاحوں پر جیٹ اسکی جیسے آبی کھیلوں اور بھنگ کے استعمال پر پابندی ہوگی۔ سیاحتی سیزن کے کمزور دور میں جہاز کی آمد مقامی کاروبار کے لیے کسی نعمت سے کم نہیں۔
پٹایا میں ایک فرانسیسی بار کے مالک نِکو نے کہا کہ ہر قسم کی آمدنی خوش آئند ہے اور اس سے کاروبار میں تھوڑی بہت بہتری آئے گی۔ تاہم انہوں نے خبردار کیا کہ شراب نوشی کے باعث کسی بھی ناخوشگوار واقعے سے بچنے کے لیے احتیاط کی ضرورت ہوگی۔
پٹایا کی بدلتی پہچان
کبھی ایک پرسکون ماہی گیری گاؤں رہنے والا پٹایا 1960 کی دہائی میں ویتنام جنگ کے دوران امریکی فوجیوں کی آمد سے تبدیل ہوا۔ بینکاک سے دو گھنٹے کی مسافت پر واقع یہ ساحلی شہر آج جنسی سیاحت کے عالمی مراکز میں شمار ہوتا ہے، حالانکہ مقامی حکام اس تصویر کو بدلنے کی کوشش کر رہے ہیں۔
