واشنگٹن: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بدھ کے روز ایک عبوری فنڈنگ بل پر دستخط کر دیے، جس سے وسط مدتی انتخابات سے قبل وفاقی حکومت کی ممکنہ بندش کا خطرہ ختم ہو گیا۔ یہ بل ایک روز قبل ایوانِ نمائندگان اور اگست میں سینیٹ سے منظور ہوا تھا۔
وائٹ ہاؤس نے تصدیق کی کہ صدر ٹرمپ نے اس بل کو قانون کی شکل دے دی ہے۔ ایوانِ نمائندگان نے منگل کو 370 کے مقابلے میں 48 ووٹوں سے موجودہ اخراجات میں 11 دسمبر تک توسیع کی منظوری دی تھی، جبکہ سینیٹ نے یہ اقدام 8 اگست کو پاس کیا تھا۔
یکم اکتوبر کی ڈیڈ لائن سے بچاؤ
یہ بل وفاقی اداروں کو یکم اکتوبر کے بعد بھی کام جاری رکھنے کی اجازت دے گا، کیونکہ نئے مالی سال کے آغاز پر موجودہ فنڈز کی میعاد ختم ہو رہی تھی۔ عبوری اقدام اس لیے ضروری تھا کہ کانگریس اب تک ان 12 اخراجاتی بلوں میں سے کسی پر بھی حتمی کام مکمل نہیں کر سکی جو 30 ستمبر 2027 تک پورے مالی سال کے لیے سرکاری پروگراموں کو فنڈ فراہم کرتے ہیں۔
ان پروگراموں میں ہوم لینڈ سیکیورٹی، وفاقی قانون نافذ کرنے والے ادارے، توانائی، رہائش اور دفاع جیسے شعبے شامل ہیں۔
ماضی کے تعطل کا سایہ
ٹرمپ کی دوسری مدت کے آغاز سے ہی کانگریس ریپبلکنز اور ڈیموکریٹک اقلیت کے درمیان تلخ سیاسی کشمکش میں الجھی رہی ہے۔ اس کا نتیجہ تین جزوی حکومتی بندشوں کی صورت میں نکلا، جو مجموعی طور پر 161 دن تک جاری رہیں۔ یہ تعطل ہیلتھ انشورنس سبسڈیز اور وفاقی امیگریشن نگرانی میں چیک اینڈ بیلنس جیسے معاملات پر سیاسی رسہ کشی کی وجہ سے پیدا ہوا تھا۔
تاہم اس بار نہ تو ریپبلکن اور نہ ہی ڈیموکریٹس چاہتے تھے کہ انتخابی مہم کے دوران چوتھی حکومتی بندش ان کے سر پر تلوار بن کر لٹکے۔ ایسا ہونے سے مہنگائی، ایران کے خلاف جاری امریکی اسرائیلی جنگ کے باعث تیل و گیس کی بڑھتی قیمتوں اور غیر ملکی اشیا پر محصولات سے پریشان ووٹرز مزید ناراض ہو سکتے تھے۔
بڑے مالی مسائل بدستور حل طلب
یہ عبوری بل ملک کے بڑے مالی مسائل میں سے کسی کو حل نہیں کرتا۔ گزشتہ ماہ قومی قرضہ 40 ٹریلین ڈالر کی حد عبور کر چکا ہے، جبکہ واشنگٹن ووٹرز کی سب سے بڑی تشویش یعنی استطاعت اور معاشی سہولت کے مسئلے پر کوئی پیش رفت کرنے میں ناکام رہا ہے۔
مزید برآں، اس قانون سازی کے باعث اخراجات کی ترجیحات پر فیصلہ سازی مزید 15 ہفتوں کے لیے ملتوی ہو گئی ہے۔ اب کانگریس کو دسمبر میں ان 12 مکمل سالانہ اخراجاتی بلوں کو تحریر اور منظور کرنے کے مشکل کام کا سامنا کرنا پڑے گا۔
نومبر کے انتخابات کا اثر
3 نومبر کو ہونے والے کانگریسی انتخابات کے نتائج — جن میں کانگریس پر پارٹی کا کنٹرول داؤ پر لگا ہے — اس بات کا تعین کرنے میں اہم کردار ادا کریں گے کہ ان مذاکرات میں ریپبلکنز یا ڈیموکریٹس کو بالا دستی حاصل ہوگی۔
