نیویارک: ملک کے سب سے بڑے اسکولی ضلع نے سرکاری ابتدائی اور مڈل اسکولوں میں طلبہ کے لیے مصنوعی ذہانت کے استعمال پر ایک سال کی پابندی کا اعلان کیا ہے، جو کلاس روم میں نئی ٹیکنالوجی کے حوالے سے رہنما اصول وضع کرنے کی جانب عوامی حکام کا تازہ ترین قدم ہے۔
یہ فیصلہ امریکہ بھر میں اب تک کی سب سے سخت پابندی ہے، حالانکہ لاس اینجلس سمیت دیگر اضلاع نے کہا ہے کہ وہ اے آئی پالیسیوں کا جائزہ لے رہے ہیں۔
میئر کا موقف: بچوں کو انسانوں کی ضرورت ہے
میئر ظہران ممدانی نے بدھ کو نامہ نگاروں کو بتایا کہ اسکول نیویارک سٹی کے کلاس رومز میں تقریباً 40 تعلیمی آلات کا موجودہ استعمال روک دیں گے۔
ممدانی نے ایک پریس کانفرنس میں کہا، “بچوں کو سیکھنے اور بڑھنے کے لیے اساتذہ اور انسانی تعلق کی ضرورت ہوتی ہے۔ انہیں اپنے ساتھیوں کے ساتھ مہارتیں پیدا کرنے، اساتذہ کے ساتھ تعلقات استوار کرنے اور خود مشکل مسائل سے نبرد آزما ہونے کی ضرورت ہے۔”
پالیسی کا دائرہ کار
یہ پالیسی آٹھویں جماعت تک تقریباً 600,000 سرکاری اسکولی طلبہ کو متاثر کرے گی، جبکہ ہائی اسکول کے طلبہ کو کچھ معاملات میں اے آئی استعمال کرنے کی اجازت ہوگی۔ شہر نے ایک بیان میں کہا کہ اساتذہ کو سبق کی منصوبہ بندی اور شیڈولنگ جیسے کاموں کے لیے اے آئی استعمال کرنے کی اجازت ہوگی۔
بڑے اے آئی ڈویلپرز گوگل، اینتھروپک اور مائیکروسافٹ نے تبصرے کی درخواستوں کا فوری جواب نہیں دیا۔
سابقہ پابندی کا پس منظر
نیویارک سٹی کے سرکاری اسکولوں نے 2022 میں چیٹ جی پی ٹی کے متعارف ہونے کے فوراً بعد اس پر عارضی پابندی عائد کر دی تھی۔ مائیکروسافٹ کے مطابق، جو چیٹ جی پی ٹی بنانے والی کمپنی اوپن اے آئی کا جزوی مالک ہے، بعد میں یہ پابندی ہٹا دی گئی اور اس کی جگہ ایک حسب ضرورت اے آئی سے چلنے والا تدریسی معاون متعارف کرایا گیا۔
