لندن (دنیا نیوز) – پاکستان کرکٹ بورڈ (پی سی بی) کے چیئرمین محسن نقوی نے قومی ٹیسٹ اسکواڈ میں تبدیلیوں کو ناگزیر قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ بورڈ ٹیم کی آن فیلڈ کارکردگی سے ہٹ کر دیگر عوامل کا بھی جائزہ لے رہا ہے۔
لندن میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے نقوی نے قومی ٹیم کی مایوس کن کارکردگی پر گہری تشویش کا اظہار کیا۔ انہوں نے کہا کہ انگلینڈ میں جو اقدامات اٹھائے گئے وہ ضروری تھے اور کارکردگی کے علاوہ دیگر معاملات بھی شامل تھے جن کا اس وقت جائزہ لیا جا رہا ہے۔
پی سی بی چیئرمین نے واضح کیا کہ کوئی طے شدہ اصول نہیں کہ جسے ذمہ داری دی جائے وہ تین سال تک اسی عہدے پر برقرار رہے۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ کیا جنوبی افریقہ کی نمیبیا کے خلاف یا بھارت کی آئرلینڈ کے خلاف شکست کا مطلب یہ تھا کہ ان کی کرکٹ ختم ہو گئی۔
صورتحال کے مطابق کھلاڑی کو موقع دیا جائے گا
نقوی نے کہا کہ جس کھلاڑی کی ضرورت مخصوص صورتحال میں ہو گی اسے موقع دیا جائے گا، اور پاکستان کے لیے ہر میچ اہم ہے۔
سلمان علی آغا کی کارکردگی پر بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ وہ بہترین کرکٹر ہیں لیکن کارکردگی دکھانے میں ناکام رہے، اسی لیے ان سے بات چیت کی گئی۔
پی سی بی چیئرمین نے کہا کہ وہ تنقید کی بنیاد پر فیصلے نہیں کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ جب کسی کو تعینات کیا جاتا ہے تو مسئلہ ہوتا ہے اور جب کسی کو ہٹایا جاتا ہے تو دوسرا مسئلہ۔ انگلینڈ میں حالیہ ٹیسٹ شکستوں کا حوالہ دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ آخری دو ٹیسٹ میں حالات اس سے زیادہ خراب نہیں ہو سکتے تھے۔
ٹیسٹ کرکٹ میں بہتری کا اعتماد
نقوی نے اعتماد ظاہر کیا کہ آنے والے دنوں میں ٹیسٹ کرکٹ میں بہتری آئے گی، جس طرح ون ڈے اور ٹی ٹوئنٹی میں پاکستان کی کارکردگی بہتر ہوئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ کرکٹ بورڈ نتائج کا جوابدہ ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ نئی کوچنگ ٹیم کی آمد کے بعد پاکستان نے ون ڈے رینکنگ میں آٹھویں سے پانچویں پوزیشن حاصل کی ہے اور اس دوران چھ میں سے چار دو طرفہ سیریز جیتی ہیں۔
اپنے دور میں ٹیم کی کارکردگی پر بات کرتے ہوئے نقوی نے کہا کہ پاکستان ٹی ٹوئنٹی میں نویں سے چھٹے نمبر پر آ گیا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ قومی ٹیم کی جیت کی شرح 24 فیصد سے بڑھ کر 74 فیصد ہو گئی ہے۔
تنقید کرنے والوں پر سخت ردعمل
نقوی نے کہا کہ جب ٹیم میچ ہارتی ہے تو تنقید جائز ہے، لیکن فوراً یہ اعلان کر دینا کہ پاکستان کرکٹ ختم ہو گئی، مناسب نہیں۔
ناقدین کو نشانہ بناتے ہوئے پی سی بی چیئرمین نے کہا کہ کچھ لوگ جنہوں نے زندگی میں کچھ حاصل نہیں کیا وہ دوسروں پر تنقید کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ وہ تنقید سے خوفزدہ نہیں اور سابق کرکٹرز سے بھی رائے لیتے ہیں۔
نقوی نے تسلیم کیا کہ پاکستان کی ٹیسٹ کارکردگی بہت خراب رہی ہے اور اس کے پیچھے کئی وجوہات ہیں۔ تاہم انہوں نے کہا کہ اس مرحلے پر کچھ وجوہات پر بات کرنا مناسب نہیں۔
انہوں نے زور دیا کہ کھلاڑیوں کی حوصلہ شکنی ختم ہونی چاہیے اور کہا کہ وہ کھلاڑیوں پر عوامی سطح پر الزام تراشی کی اجازت نہیں دیں گے۔ انہوں نے ون ڈے اور ٹی ٹوئنٹی میں کارکردگی پر کوچنگ اسٹاف اور سلیکشن کمیٹی کو مبارکباد بھی دی۔
سلیکشن میں غلطیوں کا اعتراف
نقوی نے اعتراف کیا کہ سلیکشن میں بھی غلطیاں ہوئیں اور کہا کہ اس میں شامل لوگ فرشتے نہیں ہیں۔ انہوں نے کہا کہ انہیں جوابدہ ٹھہرایا جائے گا لیکن کام جاری رکھنے کا موقع بھی دیا جائے گا۔
انہوں نے مزید کہا کہ اگر کسی کو ان سے ذاتی رنجش ہے تو وہ ان پر تنقید کر سکتا ہے، لیکن ان سے درخواست ہے کہ پاکستان کرکٹ کو نشانہ نہ بنائیں۔
دریں اثنا، پاکستان کرکٹ ٹیم برمنگھم پہنچ گئی ہے اور جمعرات کو ایجبسٹن کرکٹ گراؤنڈ میں ٹریننگ سیشن کرے گی۔ پاکستان اور انگلینڈ کے درمیان تیسرا ٹیسٹ 9 ستمبر سے برمنگھم کے ایجبسٹن کرکٹ گراؤنڈ میں کھیلا جائے گا۔
ٹیسٹ اسکواڈ میں بڑی تبدیلیاں
یاد رہے کہ لارڈز ٹیسٹ میں شکست کے بعد پی سی بی نے اسکواڈ میں بڑی تبدیلیاں کیں اور امام الحق سمیت سات کھلاڑیوں کو وطن واپس بھیج دیا۔
بورڈ نے قومی ٹیم کے ہیڈ کوچ سرفراز احمد اور بولنگ کوچ عمر گل کو بھی عہدوں سے ہٹا دیا۔
سابق کپتان مصباح الحق نے بھی حالیہ اسکواڈ میں بڑی تبدیلیوں کے بعد سلیکشن پینل سے استعفیٰ دے دیا۔
عاقب جاوید کی وضاحت
پی سی بی ڈائریکٹر ہائی پرفارمنس اور سلیکشن کمیٹی کے رکن عاقب جاوید نے بڑی تبدیلیوں کی وجوہات بتاتے ہوئے کہا کہ پاکستان نے دو ٹیسٹ میچ کھیلے لیکن ٹیم مسابقتی نظر نہیں آئی، جبکہ ایک ٹیسٹ ابھی باقی ہے۔
عاقب کے مطابق ٹیم منیجمنٹ کے پاس پیس بولنگ آل راؤنڈر، دوسرا وکٹ کیپر اور فاسٹ بولر عبید شاہ دستیاب تھے جو تقریباً 140 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے بولنگ کر سکتے ہیں، لیکن ان کھلاڑیوں کو استعمال کرنے کے فیصلے نہیں کیے گئے۔
عاقب نے کہا کہ انہوں نے کپتان بابر اعظم اور کوچ سے عبید شاہ کو ٹیم میں شامل کرنے کو کہا تھا کیونکہ محمد عباس، محمد علی اور خرم شہزاد سمیت دیگر بولرز کی رفتار تقریباً یکساں تھی۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان کے ٹاپ سات بلے بازوں میں سے کوئی بولنگ نہیں کرتا، اسی لیے ٹیم میں آل راؤنڈر شامل کیا جانا چاہیے تھا۔
عاقب کے مطابق 140 کلومیٹر فی گھنٹہ کے قریب رفتار سے بولنگ کرنے والا فاسٹ بولر پاکستان کے بولنگ اٹیک کا ڈھانچہ بدل سکتا ہے۔
