پیرس: فرانس کے مشرقی علاقے ہوت-سون میں واقع قصبے جی سے ایک ہی خاندان کے چار افراد کی لاشیں ملی ہیں، جن میں چھ اور نو سال کی عمر کے دو بچے بھی شامل ہیں۔ یہ افسوسناک واقعہ بدھ کی شام اس وقت سامنے آیا جب حکام کو ایک نجی زمین پر کھڑی کارواں گاڑیوں کے قریب سے لاشیں ملنے کی اطلاع ملی۔
خبر رساں ادارے اے ایف پی سے بات کرتے ہوئے ایک اہلکار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ چاروں لاشیں رات آٹھ بجے کے قریب برآمد ہوئیں۔ انہوں نے کہا کہ متاثرین میں دو کم سن لڑکے بھی شامل ہیں۔
مشتبہ والد نے فائرنگ کرکے خودکشی کی؟
فرانسیسی میڈیا رپورٹس کے مطابق، مقامی ژاندارمری کو شام آٹھ بجے کے قریب اطلاع دی گئی۔ ابتدائی تفتیش سے معلوم ہوا ہے کہ خاندان کے والد نے مبینہ طور پر آتشیں اسلحے سے اپنے قریبی عزیزوں کو قتل کرنے کے بعد خود کو بھی گولی مار لی۔ چوتھی لاش ممکنہ طور پر اس کی ساس کی ہے، تاہم رشتے کی حتمی تصدیق ابھی باقی ہے۔
ایک سرکاری ذریعے نے بتایا کہ یہ جوڑا طلاق کے مراحل میں تھا اور اپنا نیا گھر تعمیر کر رہا تھا۔ ذرائع کے مطابق متوفی والد کا تعلق خانہ بدوش برادری سے تھا۔
جائے وقوعہ پر بھاری پولیس تعینات
اطلاعات کے مطابق ایک لاش ایک یوٹیلیٹی گاڑی کے اندر سے ملی جبکہ باقی تین لاشیں ایک موبائل ہوم سے برآمد ہوئیں۔ استغاثہ نے جان بوجھ کر قتل کا مقدمہ درج کر لیا ہے۔
واقعے کے بعد علاقے میں ژاندارمری کا بھاری نفری تعینات کر دیا گیا ہے۔ تقریباً ایک ہزار آبادی والے اس قصبے کے میئر بھی موقع پر پہنچے اور بعد ازاں ایک ہنگامی میونسپل کونسل کا اجلاس طلب کیا۔
ویزول کے سرکاری وکیل نے جمعرات کی صبح تک اے ایف پی کے سوالات کا کوئی جواب نہیں دیا تھا۔
