پیرس کی میونسپلٹی نے ایک تاریخی فیصلہ کرتے ہوئے اعلان کیا ہے کہ آئندہ تعلیمی سال سے کم آمدنی والے خاندانوں کے 17,000 بچوں کے لیے اسکول کینٹین مکمل طور پر مفت ہوں گی۔ یہ اقدام شہر کے سماجی تحفظ کے نظام میں ایک نمایاں تبدیلی کی عکاسی کرتا ہے۔
نئے تعلیمی سال سے نافذ العمل
پیرس سٹی حکام نے 5 جون کو اپنی سرکاری ویب سائٹ پر اس فیصلے کا اعلان کیا تھا، جسے بعد ازاں 16 جون کو سٹی کونسل کی منظوری دے دی گئی۔ اس نئے پالیسی کے تحت نہ صرف مستحق خاندانوں کے بچوں کے لیے کینٹین کی سہولت مفت ہوگی بلکہ دیگر خاندانوں کے لیے بھی کینٹین کے نرخوں کو منجمد رکھا جائے گا۔
مخالفت اور تحفظات
تاہم، اس فیصلے پر حزب اختلاف نے سوالات اٹھائے ہیں۔ “پیرس اپیسے” گروپ، جسے رینیساں، ہوریزون اور سینٹرسٹ ارکان کی حمایت حاصل ہے، نے اس اقدام کے خلاف ووٹ دیا۔ ان کا بنیادی اعتراض اس اقدام کے بجٹ پر پڑنے والے ممکنہ مالی بوجھ سے متعلق ہے۔
حزب اختلاف نے مطالبہ کیا ہے کہ اسکول فنڈز کے منتظمین اور آرونڈیسمینٹ کے میئرز کے ساتھ مشاورت کی جائے تاکہ اس اقدام کے مالی اثرات کا جائزہ لیا جا سکے۔ ان کے مطابق، اس فیصلے سے شہر کے بجٹ پر اضافی بوجھ پڑے گا۔
نیا نظام اور سابقہ قواعد
نئے نظام کے تحت، جو والدین اپنے بچوں کو بغیر میڈیکل سرٹیفکیٹ کے اسکول نہیں بھیجیں گے، انہیں کینٹین کا پورا معاوضہ ادا کرنا ہوگا۔ اس کے علاوہ، 5 یورو کا جرمانہ بھی عائد کیا جائے گا۔ یہ قواعد شہر کے اسکولوں میں نظم و ضبط برقرار رکھنے کے لیے بنائے گئے ہیں۔
سماجی انصاف کی جانب قدم
ماہرین کے مطابق، یہ اقدام پیرس شہر کی سماجی پالیسی میں ایک اہم سنگ میل ہے۔ اس سے نہ صرف کم آمدنی والے خاندانوں پر مالی بوجھ کم ہوگا بلکہ بچوں کی تعلیمی معیار بہتر بنانے میں بھی مدد ملے گی۔ شہر کی انتظامیہ کا ماننا ہے کہ مفت کینٹین کی سہولت سے غریب خاندانوں کے بچوں کو بہتر غذائیت مل سکے گی، جو ان کی مجموعی نشوونما کے لیے انتہائی اہم ہے۔
یہ فیصلہ پیرس کو سماجی فلاح و بہبود کے میدان میں دوسرے یورپی شہروں کے مقابلے میں ایک نمایاں مقام عطا کرتا ہے، جہاں تعلیمی سہولیات کو ہر بچے تک پہنچانے پر خصوصی توجہ دی جا رہی ہے۔
