# ایران امریکہ جنگ: آبنائے ہرمز میں نیا بحران، تیل کی قیمت 99 ڈالر کے قریب
**خلیج اور مشرق وسطیٰ میں کشیدگی اپنی ساتویں ماہ میں داخل ہوگئی ہے، جہاں ایران اور امریکہ کے درمیان جاری جنگ نے اب آبنائے ہرمز کو مکمل طور پر اپنی لپیٹ میں لے لیا ہے۔ امریکی فوج کی جانب سے پانچ ایرانی آئل ٹینکرز کو تباہ کیے جانے کے بعد ایران نے جوابی کارروائی کرتے ہوئے اردن میں امریکی اڈے پر بیلسٹک میزائل حملہ کیا ہے اور ہرمز کے قریب دس بحری جہازوں کو نشانہ بنانے کا دعویٰ کیا ہے۔**
## ایرانی حملوں میں شدت
خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق ایران کے پاسداران انقلاب نے بدھ کے روز اعلان کیا کہ انہوں نے اردن میں امریکی فوج کے زیر استعمال ایک اڈے پر بیلسٹک میزائل فائر کیے ہیں۔ یہ کارروائی اس وقت سامنے آئی جب امریکہ نے گذشتہ روز پانچ ایرانی آئل ٹینکرز کو تباہ کرنے کا دعویٰ کیا تھا۔
امریکی سینٹرل کمانڈ نے اس حملے کی ویڈیو جاری کی ہے، جسے ایران کے پاسداران انقلاب کی جانب سے امریکی جنگی بحری جہاز پر دو بار بیلسٹک میزائل حملے کا جواب قرار دیا گیا ہے۔ امریکی حکام کے مطابق ان حملوں میں کوئی امریکی شہری ہلاک نہیں ہوا۔
## امریکی وزیر خارجہ کا سخت موقف
امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے کولمبیا کے دورے کے دوران صحافیوں سے بات کرتے ہوئے کہا کہ “ایران مسلسل امریکی بحری جہازوں کو نشانہ بنانے کی کوشش کر رہا ہے، اور جتنی بار وہ ایسا کریں گے، انہیں اتنے ہی ٹینکرز کا نقصان اٹھانا پڑے گا۔”
## حوثیوں کا سعودی عرب پر حملہ
جنگ کے چھٹے مہینے میں یمن کے ایران نواز حوثی باغیوں نے سعودی عرب کے کئی شہروں پر بڑے پیمانے پر حملے کیے ہیں، جس میں 73 افراد زخمی ہوئے ہیں اور تیل کی تنصیبات کو نقصان پہنچا ہے۔ حوثی میڈیا کے مطابق سعودی طیاروں نے جوابی کارروائی میں ماریب، الجوف، تعز اور الحدیدہ کے مختلف علاقوں پر 32 فضائی حملے کیے ہیں۔
قطر کی وزارت خارجہ نے حوثی حملوں کی شدید مذمت کرتے ہوئے انہیں سعودی عرب کی خودمختاری کی صریح خلاف ورزی اور بین الاقوامی قوانین کی واضح عدول حکمی قرار دیا ہے۔
## آبنائے ہرمز میں امریکی ڈرون پر قبضہ
ایران کے پاسداران انقلاب نے دعویٰ کیا ہے کہ انہوں نے آبنائے ہرمز کے داخلی راستے پر امریکی خودکار آبدوز ڈرون پر قبضہ کر لیا ہے۔ ایرانی سرکاری میڈیا کے مطابق یہ ڈرون کیلیفورنیا کی دفاعی کمپنی اندوریل کا تیار کردہ ‘ڈائیو-ایل ڈی’ ماڈل ہے، جو پانی کے اندر سرگرمیوں کے لیے استعمال ہوتا ہے۔
تاہم امریکی حکام نے تصدیق کی ہے کہ یہ ڈرون تکنیکی خرابی کا شکار ہو کر بہہ گیا تھا اور اس میں کوئی خفیہ آلات موجود نہیں تھے۔ ایران نے اس کے علاوہ آبنائے ہرمز کے اوپر امریکی ایم کیو-1 ڈرون کو مار گرانے کا بھی دعویٰ کیا ہے۔
## تیل کی قیمتوں میں اضافہ
مشرق وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے باعث تیل کی قیمتوں میں مسلسل چوتھے روز اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔ برینٹ کروڈ فیوچرز 1.4 فیصد اضافے کے ساتھ 99.33 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گیا ہے، جبکہ امریکی ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ 94.34 ڈالر فی بیرل پر ٹریڈ کر رہا ہے۔
## ہرمز سے گزرنے والے بحری جہازوں کے اخراجات میں اضافہ
امارات نیشنل آئل کمپنی (این او سی) کے ایگزیکٹو پال بریڈشا نے تصدیق کی ہے کہ جنگ کے بعد آبنائے ہرمز سے گزرنے والے بحری جہازوں کے اخراجات میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ کارگو انشورنس کی شرح اب کارگو کی مالیت کا پانچ سے چھ فیصد تک پہنچ گئی ہے، جس کا مطلب ہے کہ ایک جہاز کو صرف انشورنس پر دس ملین ڈالر تک ادا کرنے پڑ سکتے ہیں۔
## جنوبی کوریا میں احتجاج
دریں اثنا، جنوبی کوریا کے دارالحکومت سیول میں درجنوں مظاہرین نے اپنی حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ آبنائے ہرمز میں فوجی دستے نہ بھیجے۔ امریکی سفارتخانے کے سامنے جمع ہونے والے مظاہرین نے “جارحیت کی جنگ میں شامل نہ ہوں” کے نعرے لگائے۔ جنوبی کوریا کے صدر لی جاے میونگ نے فرانس کے صدر ایمانوئل میکخواں کے ساتھ ہرمز میں بحری آزادی کے حوالے سے تبادلہ خیال کیا ہے، تاہم صدارتی دفتر نے واضح کیا ہے کہ ان مذاکرات میں فوجی دستے بھیجنے کا معاملہ زیر بحث نہیں آیا۔
## امریکہ کی نئی پابندیاں
امریکی محکمہ خزانہ نے ایران کے خلاف نئی پابندیاں عائد کرتے ہوئے 36 ایران سے منسلک اداروں کو نشانہ بنایا ہے۔ ان پابندیوں کا مرکز ایران کی ایوی ایشن سیکٹر ہے، جس میں مہان ایئر اور دیگر تمام ایرانی ایئر لائنز شامل ہیں۔ ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے ان پابندیوں پر شدید تنقید کرتے ہوئے کہا کہ امریکہ 47 سال سے پابندیاں عائد کر رہا ہے اور ناکامی کے باوجود اسی پالیسی پر عمل پیرا ہے۔
## صدر ٹرمپ کا مؤقف
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ ایران کو امریکہ کی جانب سے “بھاری سزا” دی گئی ہے۔ واشنگٹن میں ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ “ہم اس لیے جنگ لڑ رہے ہیں کیونکہ ایک ملک جوہری ہتھیار حاصل کرنا چاہتا تھا، لیکن اب ان کے پاس اسے حاصل کرنے کا کوئی موقع نہیں۔” انہوں نے ایران کی بحری ناکہ بندی کو “انتہائی طاقتور اور مؤثر” قرار دیا۔
## جنگ کا پس منظر
یاد رہے کہ امریکہ اور اسرائیل نے 28 فروری کو ایران پر حملے شروع کیے تھے، جسے ٹرمپ نے “بڑی فوجی کارروائی” قرار دیا تھا۔ ان حملوں میں ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای شہید ہو گئے تھے، جس کے بعد ان کے بیٹے مجتبیٰ خامنہ ای نے مارچ میں ان کی جگہ سنبھالی تھی۔ آٹھ اپریل کو دو ہفتے کی جنگ بندی پر اتفاق ہوا تھا، جس کے بعد پاکستان میں امریکہ اور ایران کے درمیان براہ راست مذاکرات ہوئے تھے۔ جون میں ایک ابتدائی معاہدہ طے پایا تھا، لیکن جولائی میں دوبارہ لڑائی شروع ہو گئی تھی۔
