لندن: برطانیہ کی فضائی حدود منگل کو ایک بڑے تکنیکی بحران کا شکار ہوگئیں، جس کے نتیجے میں برطانیہ کے متعدد بڑے ہوائی اڈوں سے آنے اور جانے والی ایک ہزار سے زائد پروازیں منسوخ کرنی پڑیں۔ برطانوی فضائی نیویگیشن سروس (NATS) میں پیش آنے والی اس خرابی نے ہیتھرو، گیٹوک، لیورپول، برمنگھم اور ایڈنبرا سمیت کئی بڑے ہوائی اڈوں پر ہوائی ٹریفک کو شدید متاثر کیا۔
تکنیکی خرابی اور نظام کی بحالی
برطانوی فضائی نیویگیشن سروس NATS نے اپنے بیان میں کہا کہ “ہم نے خرابی کا ازالہ کر لیا ہے اور ہمارا پروازوں کا نظام بحال ہونا شروع ہو گیا ہے۔” تاہم، نظام کی بحالی میں توقع سے زیادہ وقت لگا۔ NATS نے مزید کہا کہ “ہماری تکنیکی ٹیم دن رات کام کر رہی ہے تاکہ پروازوں میں ہونے والی تاخیر کو جلد از جلد پورا کیا جا سکے۔” اس خرابی کا آغاز مقامی وقت کے مطابق دوپہر ایک بجے کے قریب ہوا۔
مسافروں کی مشکلات اور انتظار کی طوالت
اس بحران کے باعث مختلف ہوائی اڈوں پر مسافروں کا شدید ازدحام دیکھنے میں آیا۔ کئی مسافروں کو گھنٹوں انتظار کرنا پڑا، جبکہ متعدد نے معلومات کی کمی پر شدید تحفظات کا اظہار کیا۔ ایک خاتون مسافر نے ٹیلی گراف سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ “کوئی مجھے کچھ نہیں بتا رہا۔ ریان ائیر کا فون براہ راست وائس میل پر چلا جاتا ہے، یہ انتہائی افسوسناک ہے۔” کچھ مسافروں کا کہنا تھا کہ وہ چھ گھنٹے تک زمین پر کھڑے طیارے میں بغیر پانی کے پھنسے رہے۔
ایئر لائنز کا ردعمل اور متاثرہ پروازیں
برطانوی ایئر ویز نے اعلان کیا ہے کہ یہ رکاوٹ کم از کم بدھ تک جاری رہے گی، جبکہ مسافروں کو جمعہ تک مفت سفر کی سہولت فراہم کی جا رہی ہے۔ ریان ائیر نے 65,000 سے زائد مسافروں کی پروازوں میں تاخیر اور 50 پروازیں منسوخ کرنے کا اعلان کیا۔ ایزی جیٹ کے مطابق اس خرابی نے پورے یورپ میں فضائی ٹریفک کو متاثر کیا ہے۔
ماضی میں بھی ایسا بحران
ریان ائیر کے آپریشنز ڈائریکٹر نیل میک موہن نے اس صورتحال پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ “2023 میں NATS کے نظام کی تباہ کن خرابی کے تین سال بعد، یہ واضح ہے کہ کچھ بھی تبدیل نہیں ہوا۔” واضح رہے کہ اگست 2023 میں بھی NATS کی ایک بڑی خرابی کے باعث ہزاروں مسافر متاثر ہوئے تھے اور تقریباً 2000 پروازیں دو دنوں میں منسوخ کرنی پڑی تھیں۔
برطانوی وزیر ٹرانسپورٹ ہیڈی الیگزینڈر نے اس صورتحال پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ “مجھے معلوم ہے کہ یہ مسافروں کے لیے انتہائی پریشان کن ہوگا، میں اس کے لیے معذرت خواہ ہوں۔”
