# ایفل ٹاور کا جنسی امتیاز کا اسکینڈل: خواتین ملازمین کو ’نظر سے اوجھل‘ کرنے پر دو تحقیقات کا آغاز
پیر کو اس وقت ایفل ٹاور پر کام کرنے والے ملازمین نے ہڑتال کی جب انہیں معلوم ہوا کہ ایک ہندو مذہبی وفد کے دورے کے دوران خواتین عملے کو ان کے فرائض سے الگ کر کے چھپا دیا گیا۔ اس واقعے کے اگلے دن منگل کو ایفل ٹاور دوبارہ زائرین کے لیے کھول دیا گیا ہے، تاہم اس جنسی امتیاز کی ذمہ داری کون قبول کرے گا، یہ سوال ابھی تک حل طلب ہے۔
## ہفتے کے روز ’غائب‘ کر دی گئیں تقریباً بیس خواتین ملازمین
ایفل ٹاور کے عملے نے پیر کو ہڑتال کی تاکہ ہفتے کے روز بھارت کے قدامت پسند مذہبی گروپ ’بوچاسنواسی اکشر پرشوتم سوارمینارائن سنستھا‘ (BAPS) کے ایک بڑے وفد کے دورے کے دوران دیے گئے ’احکامات‘ کے خلاف احتجاج ریکارڈ کروایا جا سکے۔
سی جی ٹی یونین نے ایک بیان میں ان ’پیشہ ورانہ ہدایات‘ کی مذمت کی جن کے نتیجے میں خواتین ملازمین کو ان کی جنس کی بنیاد پر علیحدہ کیا گیا، ان کی جگہ مردوں کو تعینات کیا گیا اور انہیں ’نظر سے اوجھل‘ کر دیا گیا۔
سی جی ٹی کی سیکرٹری ڈیان ڈیووئن نے بتایا کہ اس واقعے میں تقریباً بیس خواتین متاثر ہوئیں۔ انہوں نے کہا کہ کچھ خواتین کو اپنی ڈیوٹی چھوڑ کر تہہ خانے کے کمروں میں چھپنے کی ہدایت دی گئی۔
## انتظامیہ کا موقف: ’سرگرمی‘ کا الزام
ایفل ٹاور چلانے والی کمپنی (SETE) نے تسلیم کیا ہے کہ وفد نے اپنے روحانی پیشوا کے دورے کے دوران خواتین سے ملاقات محدود رکھنے کی شرط رکھی تھی، لیکن ان کا کہنا ہے کہ یہ شرط قبول نہیں کی جانی چاہیے تھی۔
SETE کے صدر ایریل وائل نے زور دیا کہ انہیں اور ڈائریکٹر جنرل کو اس شرط کے بارے میں ’مطلع نہیں کیا گیا‘۔ انہوں نے الزام لگایا کہ فیلڈ مینجمنٹ نے ’سرگرمی‘ کا مظاہرہ کرتے ہوئے ہدایات پر عمل کیا۔
## سی جی ٹی کا الزام: ’فیلڈ مینجمنٹ بھی متاثر‘
سی جی ٹی یونین کا کہنا ہے کہ یہ امتیاز اوپر سے آیا۔ یونین کے مطابق اس قسم کے بڑے وفد کے دورے کا تعلق کسی نہ کسی طرح ریاست سے ہوتا ہے، اور ہدایات کمپنی کی اعلیٰ انتظامیہ سے آتی ہیں۔ ڈیووئن کا کہنا تھا کہ فیلڈ مینجمنٹ صرف احکامات پر عمل کر رہی تھی اور وہ بھی اس صورتحال کا شکار ہے۔
## بی اے پی ایس کا انکار
بی اے پی ایس کے پیرس وفد نے الزامات کو مسترد کر دیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ دورے کا آغاز معمول کے اوقات میں ہوا اور ان کے علم میں نہیں کہ کسی کو ایفل ٹاور میں داخلے سے روکا گیا۔ تاہم انہوں نے کسی بھی ممکنہ تکلیف پر معذرت ضرور پیش کی۔
## دو متوازی تحقیقات کا آغاز
SETE کے صدر نے بیرونی تفتیش کار کی نگرانی میں اندرونی تحقیقات کا وعدہ کیا ہے تاکہ ’تمام ذمہ داریاں طے کی جا سکیں‘۔ دوسری جانب پیرس کے میئر ایمانوئل گریگوئیر نے بھی شہر کی جانب سے ایک علیحدہ تحقیقات کا اعلان کیا ہے تاکہ ’اس مضحکہ خیز، ناانصافی پر مبنی اور ناقابل قبول فیصلے‘ کے سلسلے کو سمجھا جا سکے۔
## ایفل ٹاور کی تاریخ میں پہلا واقعہ
ملازمین اور انتظامیہ دونوں کے مطابق اس قسم کا جنسی امتیاز ایفل ٹاور کی تاریخ میں پہلی بار پیش آیا ہے۔ ڈیووئن نے کہا کہ وفد پہلے بھی کئی بار یادگار کی زیارت کر چکا ہے لیکن انہیں اس قسم کی ہدایات کبھی نہیں ملیں۔ ایریل وائل نے بھی اس بات پر زور دیا کہ ایفل ٹاور کا استقبالیہ پروٹوکول کبھی بھی کسی قسم کی تفریق کی اجازت نہیں دیتا۔
