# اوپن اے آئی کے چیف سائنسدان کا انتباہ: دنیا اے آئی کی تیزرفتار ترقی کے لیے تیار نہیں
**ٹیکنالوجی کی دنیا میں ایک بار پھر وہ سوال اٹھ کھڑا ہوا ہے جو ماہرین کو پریشان کیے ہوئے ہے: کیا مصنوعی ذہانت ہماری سمجھ اور تیاری سے کہیں زیادہ تیز رفتاری سے آگے بڑھ رہی ہے؟**
اوپن اے آئی کے چیف سائنسدان جیکب پاچوکی نے اپنے ایک تحریری بیان میں خبردار کیا ہے کہ دنیا مصنوعی ذہانت (اے آئی) کی تیزرفتار ترقی کے ممکنہ نتائج سے نمٹنے کے لیے مکمل طور پر تیار نہیں ہے۔ انہوں نے اس دور کو “انتہائی احتیاط کا متقاضی” قرار دیتے ہوئے کہا کہ **”مجھے خدشہ ہے کہ کوئی بھی مشینوں کی ذہانت میں تیزی سے جاری اضافے کے نتائج کے لیے تیار نہیں ہے۔”**
## 2023 سے اب تک: اے آئی میں غیرمعمولی تبدیلی
پاچوکی نے اپنے اس انتباہ کی وضاحت کرتے ہوئے 2023 سے اب تک اے آئی ماڈلز میں آنے والی تبدیلیوں کا جائزہ لیا۔ انہوں نے بتایا کہ موجودہ نظام اب کمپیوٹر اور گرافیکل انٹرفیس استعمال کرنے، انسانوں اور دیگر اے آئی سسٹمز کے ساتھ تعاون کرنے اور تحقیقی منصوبوں کو آگے بڑھانے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔
ان کے مطابق، یہ رفتار مستقبل میں مزید تیز ہو سکتی ہے۔ داخلی نتائج کا حوالہ دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ انہیں “پختہ یقین ہے کہ یہ ترقی کی رفتار خود کو بہتر بنانے والے چکر (ریکرسیو سیلف امپروومنٹ) تک برقرار رہ سکتی ہے۔” اس کا مطلب یہ ہے کہ اگر اے آئی کی ترقی اسی رفتار سے جاری رہی تو آنے والے نظام خود اپنی نشوونما میں زیادہ فعال کردار ادا کر سکتے ہیں۔
## سائبر سیکیورٹی: سب سے تیزی سے ترقی کرتا ہوا شعبہ
چیف سائنسدان نے سائبر سیکیورٹی کو ان شعبوں میں شامل کیا جہاں اے آئی ماڈلز کی صلاحیتیں خاص طور پر تیزی سے بڑھ رہی ہیں۔ ان کے مطابق، اے آئی اب ایسے آپریشنز انجام دینے کی صلاحیت حاصل کر رہی ہے جو پہلے صرف ماہر انسانی حضرات ہی کر سکتے تھے، خاص طور پر کمپیوٹر سسٹمز میں کمزوریوں (وولنریبلٹیز) کی تلاش کے معاملے میں۔
یہ پیش رفت ایک دوہرا چیلنج پیش کرتی ہے — یہ ایک خطرہ بھی ہے اور مضبوط نظام تیار کرنے کی ایک وجہ بھی۔ پاچوکی کا کہنا ہے کہ کافی صلاحیتوں والی اے آئی کو بنیادی ڈھانچے کی حفاظت اور دوسرے نظاموں سے دفاع کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے۔ تاہم، انہوں نے واضح کیا کہ **”بلا روک ٹوک آگے بڑھنے کا خیال تب مضحکہ خیز لگتا ہے جب ایک بار مسائل کی سنگینی کا مکمل ادراک ہو جائے۔”**
## عالمی تعاون: ناگزیر ضرورت
پاچوکی نے اے آئی کی ترقی کو کنٹرول کرنے کے لیے دو اہم حکمت عملیوں کا ذکر کیا۔ پہلی، اے آئی کے متوازی طور پر اس کی ہم آہنگی (الائنمنٹ) اور نگرانی کے عمل کو مضبوط بنانا اور محققین کو باخبر رکھنے کے طریقے تلاش کرنا۔ دوسری، اگر ضرورت ہو تو مستقبل کی ترقی کو سست کرنے کے لیے مربوط کوششیں کرنا تاکہ ان اقدامات پر اعتماد بڑھایا جا سکے۔
انہوں نے یقین دلایا کہ اوپن اے آئی الائنمنٹ اور نگرانی کے تکنیکی حل تلاش کرنے کی کوششیں جاری رکھے گا، لیکن ساتھ ہی انہوں نے زور دیا کہ **”وسیع تر مداخلت ناگزیر ہے۔”** ان کے مطابق، اس موضوع پر بین الاقوامی ہم آہنگی **”دنیا کی تمام حکومتوں کے لیے اولین ترجیح”** بننی چاہیے۔
## اقوام متحدہ کی جانب سے بھی خطرے کا اعلان
پاچوکی کے ان بیانات کے اگلے ہی دن، پیر کو، اقوام متحدہ کے ہائی کمشنر برائے انسانی حقوق وولکر تُرک نے جنیوا میں انسانی حقوق کونسل کے 63ویں اجلاس کے افتتاح میں خبردار کیا کہ اعلیٰ درجے کی مصنوعی ذہانت **”انسانیت کے لیے وجودی خطرہ”** بن سکتی ہے۔
انہوں نے کہا کہ **”ایک ایسی اے آئی جو اپنے ٹیسٹنگ ماحول سے باہر نکل جائے یا ڈویلپرز کو بلیک میل کرے تاکہ اسے بند نہ کیا جائے، وہ یقیناً بہت زیادہ طاقتور اے آئی ہے۔”** انہوں نے اے آئی کے لیے فوری طور پر ایک عالمی گورننس فریم ورک تیار کرنے کی ضرورت پر زور دیا۔
یہ دونوں بیانات اس بڑھتی ہوئی تشویش کی عکاسی کرتے ہیں کہ مصنوعی ذہانت کی غیرمعمولی ترقی انسانی معاشروں، سلامتی اور مستقبل کے لیے ایسے سوالات کھڑے کر رہی ہے جن کے جوابات ابھی تک واضح نہیں ہیں۔
