افغانستان کے مشرقی علاقے میں زلزلے کے نتیجے میں گھروں کے ملبے تلے دبے لوگوں کی تلاش میں ریسکیو ٹیمیں بھرپور کوششیں کر رہی ہیں۔ اس ہولناک تباہی میں 900 سے زائد افراد جاں بحق ہوگئے ہیں۔
یہ زلزلہ 6.0 شدت کا تھا اور اتوار کی شب پاکستان کی سرحد سے متصل کوہستانی صوبوں میں آیا، جس کے بعد چھوٹے زلزلے بھی محسوس کیے گئے۔ کنڑ صوبے کی ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی کے سربراہ احسان اللہ احسان نے بتایا کہ “رات بھر ریسکیو آپریشن جاری رہا۔” ان کے مطابق دور دراز کے گاؤں میں زخمی افراد کو اسپتال منتقل کرنے کی ضرورت ہے۔
متاثرہ علاقوں تک رسائی مشکل، تباہ شدہ مقامات پر امدادی کاموں میں مقامی لوگ بھی شامل ہو گئے ہیں۔ وہ اپنے ہاتھوں سے مٹی اور پتھر کے بنے گھروں کا ملبہ ہٹا رہے ہیں۔ 26 سالہ عبید اللہ سٹومانی، جو اپنے دوست کی تلاش میں ودیر گاؤں پہنچے تھے، نے تباہی کا منظر دیکھ کر افسوس کا اظہار کیا۔
مرنے والوں کو سفید کفن میں لپیٹا گیا اور نماز جنازہ کے بعد دفنا دیا گیا۔ کچھ شدید متاثرہ علاقے بند سڑکوں کے باعث ناقابل رسائی ہیں۔ زلزلے کا مرکز جلال آباد سے تقریباً 27 کلومیٹر دور تھا۔
افغانستان کی جنگ زدہ تاریخ اور مالی مشکلات کے سبب یہ ملک قدرتی آفات کا مؤثر طریقے سے مقابلہ کرنے کے قابل نہیں۔ 2021 میں طالبان کی حکومت کے قیام کے بعد بیرونی امداد متاثر ہوئی، جس سے قدرتی آفات سے نمٹنے کی اہلیت مزید کمزور ہوگئی۔
پاکستان کے صدر عاصف علی زرداری، وزیراعظم شہباز شریف اور دیگر حکام نے متاثرہ خاندانوں سے ہمدردی کا اظہار کیا اور صوبہ خیبر پختونخوا کے وزیراعلیٰ علی امین گنڈاپور نے امدادی ادویات بھیجنے کا اعلان کیا۔
چار کروڑ سے زائد افغان جو ایران اور پاکستان میں رہائش پذیر تھے، واپس افغانستان لوٹ چکے ہیں اور اسی علاقے میں زلزلے سے متاثر ہوئے ہیں۔ ننگرہار، کنڑ اور لغمان صوبے بھی متاثر ہوئے جہاں ہلاکتوں اور زخمیوں کی اطلاعات ہیں۔
افغانستان کے اکثر علاقے زلزلوں کا شکار رہتے ہیں، 2023 میں ہرات صوبے میں 6.3 شدت کے زلزلے نے بھی بڑی تباہی مچائی تھی۔
