کراچی: مزدور یونینوں اور بلدیہ ٹاؤن فیکٹری میں آتشزدگی کے متاثرین نے اتوار کے روز مقدمے کی نئے سرے سے جانچ پڑتال کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ سپریم کورٹ کے حالیہ فیصلے نے ذمہ داری اور احتساب سے متعلق ان کے دیرینہ مؤقف کو تقویت بخشی ہے۔
یہ مطالبہ نیشنل ٹریڈ یونین فیڈریشن پاکستان کے جنرل سیکرٹری ناصر منصور اور پاکستان ورکرز فیڈریشن کی سینئر نائب صدر زہرہ خان نے کراچی پریس کلب میں متاثرہ خاندانوں کے ہمراہ ایک مشترکہ پریس کانفرنس کے دوران کیا۔
پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے مقررین نے کہا کہ سپریم کورٹ کے حالیہ فیصلے نے ان کے اس موقف کو مضبوط کیا ہے کہ اس سانحے کے ذمہ دار فیکٹری مالکان اور سرکاری ادارے ہیں، جس میں 250 سے زائد جانیں ضائع ہوئی تھیں۔
سپریم کورٹ کا فیصلہ اور بریت
مقررین نے سپریم کورٹ کے 10 جون کے فیصلے کا حوالہ دیا جس میں عدالت نے بلدیہ ٹاؤن فیکٹری آتشزدگی کیس میں عبدالرحمان عرف بھولا اور زبیر عرف چڑیا کو بری کر دیا تھا۔ اس فیصلے میں ٹرائل کورٹ کی طرف سے سنائی گئی اور بعد میں سندھ ہائی کورٹ سے برقرار رکھی گئی سزائے موت کو کالعدم قرار دیا گیا۔
جسٹس ملک شہزاد احمد خان کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے ملزمان کی اپیلوں کو منظور کرتے ہوئے قرار دیا کہ استغاثہ اپنا مقدمہ معقول شک سے بالاتر ثابت کرنے میں ناکام رہا۔ عدالت نے کہا کہ پیش کیے گئے شواہد اور اس میں شامل قانونی پہلوؤں کی روشنی میں ملزمان شک کا فائدہ پانے کے حقدار ہیں۔
بلدیہ ٹاؤن فیکٹری میں آتشزدگی، جو پاکستان کے مہلک ترین صنعتی سانحات میں سے ایک ہے، 11 ستمبر 2012 کو اس وقت پیش آئی جب کراچی میں ایک گارمنٹس فیکٹری نے آگ پکڑ لی، جس کے نتیجے میں 259 افراد ہلاک اور متعدد زخمی ہوئے۔ ملزمان کو اس سانحے کے سلسلے میں آتش زنی اور بھتہ خوری کے الزامات کا سامنا تھا۔
اصل مجرموں کو بچانے کا الزام
پریس کانفرنس کے دوران مقررین نے الزام عائد کیا کہ اصل مجرموں کو بچانے کے لیے مقدمے کو اس کی اصل سمت سے ہٹا دیا گیا۔ انہوں نے دلیل دی کہ دو اہم ملزمان کی بریت نے یہ تاثر پیدا کیا ہے کہ ملک کے بدترین صنعتی سانحات میں سے ایک کے لیے کسی کو بھی جوابدہ نہیں ٹھہرایا گیا۔
مقررین نے مطالبہ کیا کہ اس مقدمے کا ازسرِنو جائزہ لیا جائے تاکہ فیکٹری مالکان سمیت مبینہ طور پر ملوث تمام افراد اور اداروں کا احتساب یقینی بنایا جا سکے۔
انہوں نے اس بات پر بھی تشویش کا اظہار کیا کہ متاثرین سے کیے گئے متعدد وعدے، بشمول معاوضے کے وعدے، سانحے کے برسوں بعد بھی پورے نہیں ہو سکے۔
