چین کا نیا جنگی ہتھیار: جیوتین ایس ایس یو اے وی کی پہلی پرواز کی تیاری
بیجنگ: چین نے ایک نیا فضائی ہتھیار تیار کیا ہے جو ایک “ڈرونز کا بحری جہاز” کہلاتا ہے۔ اس جدید ترین ہتھیار کو جیوتین ایس ایس یو اے وی کا نام دیا گیا ہے اور یہ اگلے ماہ جون میں اپنی پہلی تجرباتی پرواز کے لیے تیار ہے۔
جیوتین ایس ایس یو اے وی ایک غیر معمولی فضائی گاڑی ہے جو پائلٹ کے بغیر کام کرتی ہے اور اسے “اسمارٹ سپورٹ ان مینڈ ایریل وہیکل” (ایس ایس یو اے وی) کہا جاتا ہے۔ یہ ایک بڑی بمبار ڈرون کی شکل میں ہے، جس کی چوڑائی 25 میٹر ہے اور یہ 200 تک چھوٹے ڈرونز کو مختلف مشنوں کے لیے ساتھ لے جا سکتا ہے، جیسے نگرانی، جامنگ، اور حتیٰ کہ خودکش حملے۔
یہ ڈرونز اس بڑے جہاز کی سُوٹ میں محفوظ رہتے ہیں اور مصنوعی ذہانت کے ذریعے ایک ساتھ لانچ کیے جاتے ہیں، جیسے شہد کی مکھیوں کا جھرمٹ۔
یہ جدید ترین طیارہ 16 ٹن وزنی ہے اور 15 ہزار میٹر کی بلندی پر 700 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے پرواز کر سکتا ہے۔ یہ بغیر رکے نو دن تک پرواز کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے اور اپنے آغاز کے مقام سے 7 ہزار کلومیٹر تک کا سفر طے کر سکتا ہے۔
چین کی ایوی ایشن انڈسٹری کارپوریشن (اے وی آئی سی) کی جانب سے تیار کردہ اس پروجیکٹ کو 3 ارب یوان کی مالی معاونت حاصل ہے تاکہ اسے مکمل طور پر چین میں تیار کیا جا سکے۔ جون میں ہونے والی پہلی پرواز اس کی آزمائش کی سیریز کا آغاز کرے گی، جو چینی فوج کے لیے اس جدید ہتھیار کی تعیناتی کا پیش خیمہ بنے گی۔
یہ پیشرفت چین کی دفاعی حکمت عملی میں ایک بڑی تبدیلی کی علامت ہے، جو ملک کے بڑھتے ہوئے تکنیکی اور فوجی امتیاز کو ظاہر کرتی ہے۔
