انقرہ، 15 مئی 2025 – ترکیہ نے اپنی دفاعی صنعت میں ایک اہم پیشرفت کا انکشاف کیا ہے، جو مستقبل میں اس کے جنگی طیاروں کی خود مختاری کی ضمانت فراہم کرے گی۔ ترکیہ کے انجینئرز نے ایک جدید انجن TF35000 تیار کیا ہے، جو مقامی سطح پر تیار کیا گیا ہے اور اسے پانچویں نسل کے جنگی طیارے KAAN میں نصب کیا جائے گا۔ یہ انجن ترکیہ کو دنیا کی ان چند ممالک کی صف میں شامل کر دے گا جو مکمل طور پر خود مختار جنگی انجن بنا سکتے ہیں۔
TF35000 انجن کو TEI (ترک انجن انڈسٹریز) نے تیار کیا ہے، جو ترکیہ کی فضائی دفاعی صنعت میں ایک انقلابی قدم ہے۔ یہ انجن 155 کلو نیوٹن کی طاقت پیدا کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے، جو کہ دنیا کے بہترین انجنوں جیسے کہ F119 اور F110 سے مقابلہ کر سکتا ہے۔ یہ انجن مکمل طور پر مقامی مواد سے تیار کیا گیا ہے، جس میں جدید ترین دھاتیں اور تھرمل کوٹنگز بھی شامل ہیں، جو ترکیہ کے اپنے تحقیقی مراکز میں تیار کی گئی ہیں۔
ترکیہ کی اس پیشرفت نے بین الاقوامی سطح پر توجہ حاصل کی ہے کیونکہ یہ ملک اب امریکی انجن پر انحصار کیے بغیر اپنے طیارے بنا سکے گا۔ ترکیہ کی جانب سے اس انجن کی تیاری کے بعد وہ ممالک جو مغربی فوجی آلات پر انحصار نہیں کرنا چاہتے، جیسے پاکستان، قطر، اور آذربائیجان، ترکیہ کے نئے دفاعی شراکت دار بن سکتے ہیں۔
فرانس کی بحیرہ روم میں فوجی برتری کو ترکیہ کے اس اقدام کی وجہ سے چیلنج کا سامنا ہے۔ فرانس کی جدید ترین فوجی ٹیکنالوجی میں Rafale طیارہ شامل ہے، جبکہ ترکیہ اپنے KAAN طیارے کے ساتھ تیزی سے ترقی کر رہا ہے۔ دونوں ممالک کی دفاعی قوتوں کا موازنہ کیا جائے تو فرانس کی ٹیکنالوجی میں برتری ہے، لیکن ترکیہ کی قومی پیداوار اور خود مختاری کی جانب بڑھتے ہوئے اقدامات اسے ایک مؤثر حریف بنا رہے ہیں۔
ترکیہ کے TF35000 انجن کے ذریعے اپنی فضائی قوت کو مضبوط کر رہا ہے، جو نہ صرف اس کی دفاعی صنعت کی خود مختاری کو بڑھا رہا ہے بلکہ اسے ایک نئے سفارتی ہتھیار کے طور پر بھی استعمال کیا جا رہا ہے۔ یہ انجن ترکیہ کو اپنے دفاعی فیصلے خود کرنے کی آزادی فراہم کرے گا، جس سے وہ مغربی ممالک پر انحصار کم کر سکے گا۔
