ماسکو: امریکی مرکزی خفیہ ایجنسی (سی آئی اے) کے ڈائریکٹر جان ریٹکلف نے منگل 25 اگست کو ماسکو کے دورے کے دوران روسی خفیہ ایجنسیوں کے حکام سے رابطے کیے ہیں۔ بدھ کو کریملن نے اس غیر معمولی ملاقات کی تصدیق کرتے ہوئے اسے ’مثبت‘ قرار دیا ہے۔
روسی صدارتی ترجمان دمتری پیسکوف نے صحافیوں کو بتایا کہ خفیہ ایجنسیوں کے درمیان رابطے ہوئے ہیں، تاہم روسی صدر ولادیمیر پوٹن سے کوئی ملاقات نہیں ہوئی۔ انہوں نے کہا کہ ان تبادلوں کے موضوعات ظاہر نہیں کیے جا سکتے، لیکن انہیں مثبت قرار دیا جا سکتا ہے۔
روس امریکہ تعلقات میں بہتری کا امکان؟
پیسکوف نے مزید کہا کہ یہ کہنا قبل از وقت ہوگا کہ ان رابطوں کا روس اور امریکہ کے درمیان کشیدہ تعلقات کو بحران سے نکالنے کے عمل پر کیا اثر پڑے گا۔ انہوں نے واضح کیا کہ فی الحال کوئی نئی ملاقات طے نہیں ہے۔
واشنگٹن نے اس دورے کے بارے میں کوئی باضابطہ بیان جاری نہیں کیا۔ یہ 2025 میں جان ریٹکلف کے سی آئی اے کے سربراہ بننے کے بعد روس کا ان کا پہلا تصدیق شدہ دورہ ہے۔ فلائٹ ریڈار 24 کے اعداد و شمار کے مطابق منگل کو ایک امریکی فوجی طیارے نے نیٹو کے رکن ملک لٹویا کے شہر ریگا سے ماسکو تک کا چکر لگایا۔
2021 کے بعد پہلا اعلیٰ سطحی دورہ
روس میں سی آئی اے کے کسی ڈائریکٹر کا آخری تصدیق شدہ دورہ نومبر 2021 میں ہوا تھا، جو یوکرین پر روسی حملے سے چند ماہ قبل تھا۔ اس وقت کے ڈائریکٹر ولیم برنز نے ماسکو جا کر روسی حکام کو یوکرین کی سرحد کے قریب فوجیوں کی تعداد بڑھانے کے خلاف خبردار کیا تھا۔
جان ریٹکلف کا یہ دورہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب دونوں ممالک کے تعلقات یوکرین جنگ کے باعث انتہائی کشیدہ ہیں۔ مبصرین کے مطابق خفیہ ایجنسیوں کے درمیان یہ رابطے کسی ممکنہ سفارتی پیش رفت کا اشارہ ہو سکتے ہیں، تاہم دونوں فریقوں نے اس حوالے سے تفصیلات ظاہر کرنے سے گریز کیا ہے۔
کریملن کے بیان کے مطابق یہ ملاقاتیں صرف انٹیلی جنس سطح پر ہوئیں اور سیاسی قیادت اس میں براہ راست شامل نہیں تھی۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اس طرح کے خفیہ رابطے عموماً ایسے معاملات پر بات چیت کے لیے استعمال ہوتے ہیں جنہیں سفارتی سطح پر زیر بحث لانا ممکن نہیں ہوتا۔
