یورپی یونین نے پاکستان کو خبردار کیا ہے کہ اس کی بغیر ڈیوٹی برآمد کنندہ حیثیت صرف اس صورت میں برقرار رہے گی جب وہ لیبر اور شہری حقوق سے متعلق خدشات کو دور کرتا رہے گا۔ یہ انتباہ اس وقت سامنے آیا جب یورپی یونین کے انسانی حقوق کے خصوصی نمائندے، اولاف سکوگ، نے اسلام آباد کا ایک ہفتے کا دورہ مکمل کیا۔
یورپی یونین نے ایک بیان میں کہا ہے کہ اس دورے کا مقصد پاکستان کو حاصل جی ایس پی پلس تجارتی اسکیم کے تناظر میں انسانی اور محنت کشوں کے حقوق جیسے اہم مسائل پر بات چیت کرنا اور ان کے حل کے لیے پاکستان کے منصوبوں پر تبادلہ خیال کرنا تھا۔ جی ایس پی پلس کی حیثیت پاکستان کو دو ہزار چودہ میں دی گئی تھی اور تب سے ملک کی یورپی منڈیوں کے لیے برآمدات دوگنا ہو چکی ہیں۔
یورپی یونین کے جاری کردہ بیان میں یہ واضح کیا گیا ہے کہ پاکستان کو حاصل تجارتی فوائد کے لیے محنت کشوں اور شہری حقوق میں قابل مشاہدہ اصلاحات ناگزیر ہیں۔ بیان میں کہا گیا کہ یورپی یونین اس بات کا خیرمقدم کرتی ہے کہ پاکستان جی ایس پی پلس سے بھرپور استفادہ کر رہا ہے، لیکن اس کے ساتھ ہی یہ بھی کہا گیا کہ پاکستان کو اصلاحات کے راستے پر گامزن رہنے کی ضرورت ہے تاکہ وہ اپنی جی ایس پی پلس حیثیت کو مستقبل میں بھی برقرار رکھ سکے۔
سکوگ نے پاکستانی حکام کے ساتھ ملاقاتوں میں کئی اہم خدشات کو اجاگر کیا، جن میں توہین مذہب کے قوانین، خواتین کے حقوق، جبری شادیاں، جبری تبدیلی مذہب، جبری گمشدگیاں، آزادی اظہار، مذہبی آزادی، میڈیا کی خودمختاری، انسانی حقوق، منصفانہ اور شفاف عدالتی کارروائی کا حق، شہری آزادی اور سزائے موت جیسے موضوعات شامل تھے۔
یہ پیشرفت اس وقت سامنے آئی ہے جب پاکستان کی پارلیمنٹ نے حال ہی میں ایک قانون منظور کیا ہے جس کے ناقدین کا کہنا ہے کہ اس کا مقصد آزادی اظہار کو دبانا ہے۔ یہ قانون، جو صدر آصف علی زرداری کی منظوری کے بعد نافذ ہوا ہے، حکومت کو یہ اختیار دیتا ہے کہ وہ سوشل میڈیا پر ‘غلط معلومات’ پھیلانے والوں پر بھاری جرمانے عائد کر سکتی ہے اور انہیں قید کی سزا دے سکتی ہے۔
جمعہ کے روز پاکستان بھر میں صحافیوں نے اس قانون کے خلاف احتجاجی مظاہرے کیے اور آزادی اظہار پر قدغن لگانے والے کسی بھی قانون کی مزاحمت کرنے کا عزم ظاہر کیا۔ عالمی برادری اور انسانی حقوق کی تنظیمیں پاکستان میں حکومتی پابندیوں اور انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں پر تشویش کا اظہار کرتی رہتی ہیں۔
