فنانشل ٹائمز کی رپورٹ کے مطابق پاکستان اہم سفارتی پل کا کردار ادا کر رہا ہے
لندن/اسلام آباد: فنانشل ٹائمز نے اپنی ایک رپورٹ میں انکشاف کیا ہے کہ پاکستان امریکہ اور اسرائیل کی ایران کے خلاف جاری جنگ کے خاتمے کے لیے اہم ثالث کے طور پر ابھر رہا ہے۔ رپورٹ کے مطابق چیف آف ڈیفنس فورسز فیلڈ مارشل عاصم منیر نے اتوار کو امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے بات چیت کی، جبکہ پاکستانی اہلکاروں نے ایران اور امریکہ کے درمیان خفیہ رابطوں کو ممکن بنایا۔
ٹرمپ کا حملے ملتوی کرنے کا اعلان
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے خلاف مزید فوجی حملوں کو روکنے کا اعلان کیا ہے، جسے تجزیہ کار اسلام آباد کی سفارتی کوششوں کا براہ راست نتیجہ قرار دے رہے ہیں۔ ٹرمپ نے اپنے ٹروتھ سوشل پلیٹ فارم پر لکھا کہ گذشتہ دو دنوں میں ایران کے ساتھ مذاکرات “بہت اچھے اور پیداواری” رہے ہیں۔ انہوں نے مشرق وسطیٰ میں دشمنیوں کے “مکمل اور کلی حل” کی امید کا اظہار کیا۔
پاکستان کی سفارتی کوششیں
گذشتہ 48 گھنٹوں کے دوران پاکستان نے ترکی اور مصر کے ساتھ مل کر امریکہ اور ایران کے درمیان پیغام رسانی کا اہم فریضہ انجام دیا ہے تاکہ تصادم کو مزید بڑھنے سے روکا جا سکے۔ وزیراعظم شہباز شریف کی قیادت میں پاکستان نے خطے میں استحکام کے لیے مسلسل کوششیں جاری رکھی ہیں۔
- وزیراعظم شہباز شریف نے ایرانی صدر مسعود پیزشکیان سے فون پر بات چیت کی۔
- پاکستان نے ترکی اور مصر کے ساتھ مل کر سفارتی رابطوں کو مربوط کیا۔
- فیلڈ مارشل عاصم منیر نے ٹرمپ سے براہ راست رابطہ قائم کیا۔
بین الاقوامی سطح پر پاکستان کی پالیسی کی تعریف
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ پاکستان کے متوازن خارجہ پالیسی نے بین الاقوامی سطح پر پزیرائی حاصل کی ہے۔ خطے میں طاقت کے مراکز مذاکرات اور مصالحت کو ترجیح دے رہے ہیں، جس میں پاکستان کا کردار مرکزی حیثیت رکھتا ہے۔ عالمی ذرائع ابلاغ کے مطابق، اس بحران کے پرامن حل کی طرف پیش رفت ہو رہی ہے۔
جنگ کے اثرات
امریکہ اور اسرائیل کی 28 فروری سے ایران کے خلاف شروع کی گئی جنگ میں اب تک 2,000 سے زائد افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔ اس جنگ نے عالمی منڈیوں میں ہلچل مچا دی ہے، ایندھن کی قیمتوں میں اضافہ ہوا ہے اور عالمی مہنگائی کے خدشات بڑھ گئے ہیں۔
پاکستان کی سفارتی کوششیں جاری ہیں اور عالمی برادری خطے میں پرامن حل کے لیے اسلام آباد کے کردار کو سراہ رہی ہے۔
