پیرس کے نواحی علاقے پیئرفِٹ-سور-سین میں واقع ابوبکر مسجد کے امام کو ایک 15 سالہ لڑکے پر جنسی حملے کے الزام میں گرفتار کر کے جیل بھیج دیا گیا ہے۔ یہ واقعہ فرانس میں مذہبی اداروں سے وابستہ افراد کے خلاف جنسی جرائم کے بڑھتے ہوئے سلسلے کا تازہ ترین معاملہ ہے۔
گرفتاری اور قانونی کارروائی
فرانسیسی اخبار “لے پیریزیاں” کے مطابق، 41 سالہ پاکستانی شہری امام کو جمعرات کو درانسی کے علاقے میں واقع ان کی رہائش گاہ سے گرفتار کیا گیا۔ اس کے بعد انہیں علاقائی سلامتی کے دفتر لے جایا گیا جہاں ان سے تفتیش کی گئی۔ ہفتے کے روز انہیں بوبینی کی پراسیکیوشن کی درخواست پر آزادی و حراست کے جج کے سامنے پیش کیا گیا، جس کے بعد انہیں جیل بھیج دیا گیا۔
یہ کارروائی 30 اگست کو ایک 15 سالہ لڑکے کے نمائندوں کی جانب سے تھانے میں جمع کرائی گئی شکایت کی بنیاد پر کی گئی۔ شکایت میں امام پر جنسی حملے کا الزام عائد کیا گیا تھا۔
مسجد میں religious تعلیمات
امام برسوں سے پیئرفِٹ-سور-سین کے علاقے میں نوجوان مسلمانوں کو مذہبی تعلیم دے رہے تھے۔ وہ جنرل گیلیانی ایونیو پر واقع ابوبکر مسجد میں نماز کی امامت کے فرائض بھی انجام دیتے تھے۔ مسجد انتظامیہ کی جانب سے اس معاملے پر ابھی تک کوئی سرکاری بیان جاری نہیں کیا گیا۔
فرانس میں مذہبی رہنماؤں کے خلاف کارروائیاں
یہ واقعہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب فرانس میں مذہبی اداروں اور رہنماؤں کے خلاف جنسی جرائم کے الزامات میں مسلسل اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ تمام شکایات کی مکمل تحقیقات کی جائیں گی اور قانون کے مطابق کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔
- ملزم 41 سالہ پاکستانی شہری ہے جو درانسی میں مقیم تھا
- گرفتاری 30 اگست کو جمع کرائی گئی شکایت کے بعد عمل میں آئی
- ملزم کو ہفتے کے روز جیل بھیج دیا گیا
- مسجد ابوبکر، جنرل گیلیانی ایونیو، پیئرفِٹ-سور-سین میں واقع ہے
فرانسیسی قانون کے مطابق، جنسی حملے کے الزام میں ملوث پائے جانے پر طویل قید اور بھاری جرمانے کی سزا دی جا سکتی ہے۔ تفتیش کاروں کا کہنا ہے کہ مزید شہادتیں جمع کرنے کے لیے تحقیقات جاری ہیں اور دیگر ممکنہ متاثرین سے بھی رابطہ کیا جا رہا ہے۔
