فرانس میں “نو کڈز” مقامات کا رجحان بڑھ رہا ہے، جہاں بچوں کا داخلہ ممنوع ہوتا ہے۔ یہ مقامات، جو خاص طور پر بڑوں کے لیے مخصوص ہوتے ہیں، عوامی توجہ کا مرکز بن رہے ہیں۔ حالیہ ایک سروے کے مطابق، 54 فیصد فرانسیسی شہری ان مقامات کی حمایت کرتے ہیں جہاں بچوں کا داخلہ نہیں ہوتا۔ اس سروے میں مزید یہ انکشاف ہوا کہ 75 فیصد لوگوں کا ماننا ہے کہ “بچے پہلے کے مقابلے میں کم تربیت یافتہ ہوتے ہیں”، جبکہ 83 فیصد کا خیال ہے کہ “جدید تربیتی طریقے بچوں کو زیادہ ضدی یا مشکل بنا دیتے ہیں”۔ مزید برآں، 84 فیصد لوگوں کا کہنا ہے کہ “والدین اکثر اپنے بچوں کو دوسروں کی سکونت میں خلل ڈالنے دیتے ہیں۔”
تاہم، سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا بچوں کو ان مقامات سے دور رکھنا قانونی ہے؟ اس سوال کا جواب ابھی تک واضح نہیں ہے۔
حکومت میں شامل کچھ اراکین بھی اس رجحان سے فکرمند ہیں۔ اعلیٰ کمشنر برائے بچوں کے امور، سارہ ال ہیری، نے اس رجحان کو بچوں کی شمولیت اور ان کی فلاح و بہبود کے خلاف قرار دیا ہے۔ ان کے مطابق، یہ مقامات بالغوں کے آرام کو بچوں کی شمولیت پر فوقیت دیتے ہیں۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ موجودہ قانونی فریم ورک ابھی بھی غیر واضح ہے اور اس کے لیے مزید جائزہ لینے کی ضرورت ہے۔
قانونی نقطہ نظر سے، بچوں کو کچھ مقامات سے دور رکھنا امتیازی سلوک کے دائرے میں آ سکتا ہے، جیسا کہ فرانسیسی قانون کے مطابق یہ کسی بھی شخص کے ساتھ اس کی عمر، جنس یا خاندان کی حالت کی بنیاد پر کیا گیا فرق ہوتا ہے۔ ابھی تک، ان معاملات کا عدالتی سطح پر جائزہ نہیں لیا گیا ہے۔
کچھ قانونی ماہرین کا کہنا ہے کہ اس مسئلے پر مزید قانونی رہنمائی کی ضرورت ہے، تاکہ یہ طے کیا جا سکے کہ آیا بچوں کو ان مقامات سے دور رکھنا دراصل ان کے والدین کے خلاف امتیاز ہے یا بچوں کے خلاف۔
سینیٹر لورانس روسیگنول نے اس موضوع پر ایک قانون سازی کی تجویز پیش کی ہے تاکہ تجارتی مقامات پر بچوں کے اخراج کو روکنے کے لیے قانون سازی کی جا سکے۔ ان کا کہنا ہے کہ یہ اقدام معاشرتی توجہ کو متحرک کرنے میں مددگار ثابت ہوگا۔ انہوں نے حکومت پر زور دیا ہے کہ وہ اس قانون سازی کی تجویز کو قومی اسمبلی کے ایجنڈے میں شامل کرے۔
