روسی فوج نے اتوار کے روز اعلان کیا کہ انہوں نے یوکرین کے دنیپروپیٹرووسک علاقے پر حملہ کیا ہے، جو کہ تین سال سے جاری تنازع میں پہلی بار ہوا ہے۔ روسی فوج نے ٹیلیگرام پر جاری بیان میں بتایا کہ 90 ویں بکتر بند ڈویژن کی یونٹس نے ڈونیٹسک کی مغربی سرحد تک رسائی حاصل کر لی ہے اور دنیپروپیٹرووسک کے علاقے میں پیش قدمی جاری رکھی ہوئی ہے۔
ماسکو نے اس کے علاوہ ڈونیٹسک کے علاقے میں زاریہ نامی ایک نئے چھوٹے گاؤں پر قبضہ کرنے کا بھی اعلان کیا ہے۔ دنیپروپیٹرووسک میں روسی فوج کی پیش قدمی یوکرینی افواج کے لیے ایک اور علامتی دھچکا ہے، جو محاذ پر نفری اور اسلحے کی کمی کے سبب مشکلات کا سامنا کر رہی ہیں۔
اس پیش رفت کے سیاسی اور سفارتی نتائج بھی ہو سکتے ہیں کیونکہ واشنگٹن کی جانب سے تنازع کے حل کے لیے مذاکرات جاری ہیں۔ روسی حملے سے پہلے، فروری 2022 تک، دنیپروپیٹرووسک میں تقریباً تین ملین افراد مقیم تھے، جن میں سے ایک ملین دنیپرو شہر میں رہائش پذیر تھے، جو اکثر ڈرون اور میزائل حملوں کا نشانہ بنتا رہا ہے۔
دوسری جانب، یوکرینی حکومت نے اعلان کیا ہے کہ دنیپروپیٹرووسک کے علاقے میں روسی بمباری کے نتیجے میں کم از کم ایک شخص ہلاک ہوا۔ مقامی انتظامیہ کے سربراہ نے بتایا کہ روس نے سنیلنکیوسکی ضلع کے میجیوسکا علاقے پر بمباری کی، جس میں ایک شخص ہلاک ہوا۔ اس کے علاوہ نیکوپول کے علاقے میں ڈرون، آرٹلری اور ‘گراد’ راکٹ لانچرز کے ذریعے حملے کیے گئے، جس سے بجلی کی لائنوں اور چار گھروں کو نقصان پہنچا۔
یہ حملے ایسے وقت میں ہو رہے ہیں جب ماسکو اور کیف کے درمیان قیدیوں کے تبادلے کے موضوع پر کشیدگی بڑھ رہی ہے۔ قیدیوں کے تبادلے کا یہ عمل اس ہفتے کے آغاز میں ہونے والے براہ راست مذاکرات کا واحد ٹھوس نتیجہ تھا، جو روس کی فروری 2022 میں یوکرین پر حملے کے بعد سے اب تک جاری ہیں۔
