وزیراعظم فرانسوا بے رو نے بدھ کے روز میڈیا سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ وہ قومی مفاد میں تمام سیاسی جماعتوں کے ساتھ مل کر کام کرنے کے لیے تیار ہیں۔ انہوں نے متنازعہ اقدامات کے متبادل پر غور کرنے کی بھی حامی بھری۔
بی ایف ایم ٹی وی / آر ایم سی پر ایک انٹرویو کے دوران بے رو نے اعتماد کے ووٹ سے قبل اپنے موقف کی وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ “اگر حکومت گرتی ہے تو ملک میں عدم استحکام پیدا ہوگا”۔ انہوں نے جماعتوں سے اپیل کی کہ وہ قومی مفاد کو ذاتی مفاد پر ترجیح دیں۔
وزیراعظم نے کہا کہ وہ دو سرکاری تعطیلات ختم کرنے کے فیصلے کے متبادل پر غور کرنے کے لیے تیار ہیں، جو ان کے بجٹ کے منصوبے کا ایک حصہ ہے۔ انہوں نے امیگریشن کے قوانین میں سخت اقدامات کا بھی اعلان کیا، جس میں غیر دستاویزی تارکین وطن کے لیے طبی امداد تک رسائی محدود کرنا شامل ہے۔
بے رو نے دائیں بازو کی جماعتوں کے ساتھ ساتھ سوشلسٹ جماعتوں سے بھی بات چیت کی خواہش کا اظہار کیا، تاہم انہوں نے سوشلسٹ لیڈر اولیور فورے پر الزام عائد کیا کہ وہ “حکومت کو گرانا چاہتے ہیں”۔
وزیراعظم نے ملکی معیشت کی سنگین صورت حال پر زور دیتے ہوئے کہا کہ “فرانس فی الحال ناقابل یقین کمزوری کا شکار ہے” اور قرضے ملک کے لیے “زخم” کی مانند ہیں۔ انہوں نے کہا کہ وہ “حقیقت پسند ہیں، مایوس نہیں” اور اتوار کو ہونے والے ووٹ میں حکومت کی کامیابی پر یقین رکھتے ہیں۔
