پیرس اور اس کے مضافات میں ہر ہفتے کے آخر میں غیر قانونی کار ریسنگ کا سلسلہ جاری ہے جس میں ہزاروں تماشائی شرکت کرتے ہیں۔ یہ خطرناک مگر دلکش عمل بہت سے افراد کو اپنی طرف متوجہ کر رہا ہے۔
ہر ہفتے کے آخر میں، پیرس اور اس کے مضافاتی علاقے غیر قانونی کار ریسنگ کے مراکز میں تبدیل ہو جاتے ہیں۔ ان ریسوں میں شرکت کرنے والے اکثر افراد اپنی گاڑیوں کے انجن کو خاص طور پر طاقتور بناتے ہیں تاکہ وہ ان مقابلوں میں جیت سکیں۔ رات کے وقت منعقد ہونے والی ان ریسوں میں شرکت کرنے والے تماشائیوں کی تعداد ہزاروں میں ہوتی ہے جو ان گاڑیوں کی رفتار اور ڈرفٹنگ کے مظاہرے دیکھنے آتے ہیں۔
ریس کے آغاز پر، ایک نقاب پوش فرد جو “اسٹارٹر” کہلاتا ہے، دو گاڑیوں کے درمیان کھڑا ہوتا ہے اور ہاتھ اٹھا کر ریس کی شروعات کا اشارہ دیتا ہے۔ اس کے بعد، وہ زور سے چلاتا ہے: “3، 2، 1، چلو!” اور دونوں گاڑیاں اپنی پوری طاقت کے ساتھ آگے بڑھتی ہیں۔ اکثر اوقات، گاڑیاں اتنی تیز ہوتی ہیں کہ ان کے ٹائر پھسلنے لگتے ہیں، خاص طور پر گیلی سڑک پر۔ تماشائی، جو سڑک کے کنارے پر کھڑے ہوتے ہیں، ہر ریس کے آغاز پر خوشی سے چلاتے ہیں اور اکثر ان ریسوں کے نتائج پر شرطیں بھی لگاتے ہیں۔
یہ غیر قانونی ریسنگ نہ صرف خطرناک ہے بلکہ پولیس کے لیے بھی ایک چیلنج بن چکی ہے، جو ان سرگرمیوں کو روکنے کی کوشش کرتی ہے۔ کچھ لوگ اس مشق کو قانونی شکل دینے کے لیے کوشش کر رہے ہیں تاکہ یہ شوق محفوظ ماحول میں جاری رہ سکے۔ ان میں ایک معروف شخصیت اکرم بھی شامل ہیں، جو ایک ایسی جگہ خریدنے کی کوشش کر رہے ہیں جہاں یہ ریسنگ قانونی طور پر ہو سکے۔
یہ سلسلہ بڑھتا جا رہا ہے اور نوجوانوں کی ایک بڑی تعداد اس کی طرف راغب ہو رہی ہے، نتیجتاً یہ عوامی بحث کا موضوع بنتا جا رہا ہے کہ آیا ایسی سرگرمیوں کو قانونی شکل دے کر ان کی نگرانی کی جائے یا مکمل طور پر ختم کرنے کی کوشش کی جائے۔
