اسلام آباد: وفاقی حکومت نے پاکستان تحریک انصاف کے بانی عمران خان کی ہسپتال منتقلی سے متعلق سپریم کورٹ کے حکم کے خلاف نئی نظرثانی درخواست دائر کر دی ہے۔ رجسٹرار آفس کے اعتراضات دور کرنے کے بعد یہ تازہ درخواست جمع کرائی گئی ہے۔
ذرائع کے مطابق وفاقی حکومت نے عمران خان کی ہسپتال منتقلی کے معاملے پر ایک بار پھر سپریم کورٹ سے رجوع کیا ہے۔ اسلام آباد کے چیف کمشنر کی جانب سے متفرق نظرثانی درخواست دائر کی گئی ہے، جس میں رجسٹرار آفس کی جانب سے اٹھائے گئے تمام اعتراضات کو دور کر دیا گیا ہے۔
پچھلی درخواست اعتراضات کے باعث واپس
اس سے قبل حکومت نے عمران خان کو ہسپتال منتقل کرنے کے سپریم کورٹ کے فیصلے کے خلاف نظرثانی درخواست دائر کی تھی، تاہم رجسٹرار آفس نے اعتراضات لگا کر وہ درخواست واپس کر دی تھی۔
عمران خان کی طبی جانچ اور جیل واپسی
بدھ کے روز سپریم کورٹ نے پی ٹی آئی کے بانی عمران خان کو شفا ہسپتال منتقل کرنے کا حکم دیا تھا۔ تاہم جمعرات اور جمعہ کی درمیانی شب عمران خان کو پمز ہسپتال منتقل کیا گیا، جہاں ان کا طبی معائنہ کیا گیا اور بعد ازاں انہیں واپس اڈیالہ جیل بھیج دیا گیا۔
وفاقی وزیر اطلاعات عطا اللہ تارڑ کے مطابق ڈاکٹروں کی جانب سے عمران خان کو طبی طور پر فٹ قرار دیے جانے کے بعد انہیں دوبارہ جیل منتقل کر دیا گیا۔
سپریم کورٹ میں قانونی جنگ جاری
حکومت کی جانب سے دائر کی گئی نئی نظرثانی درخواست میں مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ ہسپتال منتقلی کے حکم پر عمل درآمد کے دوران طبی بنیادوں پر فیصلہ کیا گیا۔ اب یہ معاملہ سپریم کورٹ کے سامنے زیر سماعت آئے گا، جہاں عدالت حکومت کے مؤقف کا جائزہ لے گی۔
یاد رہے کہ عمران خان کی صحت اور ان کی قید سے متعلق قانونی معاملات پر ملکی سیاسی منظرنامے میں گہری نظر رکھی جا رہی ہے۔
