اسلام آباد: وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات عطا اللہ تارڑ نے واضح کیا ہے کہ پاکستان تحریک انصاف کے بانی عمران خان کو آئین، قانون اور جیل قوانین کے مطابق تمام ضروری طبی سہولیات فراہم کی جاتی رہیں گی۔ انہوں نے سپریم کورٹ کے فیصلے کے خلاف نظرثانی درخواست دائر کرنے کا بھی اعلان کیا۔
بدھ کو اسلام آباد میں وزیر مملکت برائے داخلہ طلال چوہدری کے ہمراہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے عطا اللہ تارڑ کا کہنا تھا کہ حکومت عمران خان سے متعلق سپریم کورٹ کے فیصلے کے خلاف نظرثانی درخواست دائر کرے گی۔ نجی ہسپتال میں علاج سے متعلق عدالتی ہدایت پر بھی علیحدہ نظرثانی درخواست جمع کرائی جائے گی۔
صحت کو سیاست سے الگ رکھنے پر زور
وفاقی وزیر نے کہا کہ مسلم لیگ ن نے کبھی کسی کی صحت کو سیاست کا حصہ نہیں بنایا، جبکہ انہوں نے الزام عائد کیا کہ پی ٹی آئی رہنماؤں نے ماضی میں مسلم لیگ ن کے قائدین کی صحت کو سیاسی بحث کا موضوع بنایا تھا۔
انہوں نے کہا کہ ہر قیدی کو قانون کے مطابق صحت کی سہولیات حاصل کرنے کا حق حاصل ہے اور عمران خان کو ماضی میں بھی طبی علاج اور سہولیات فراہم کی گئی ہیں۔
وہی طبی سہولیات انہیں ملتی رہیں گی، حکومت کے موقف میں کوئی ابہام نہیں۔
جیل مینول کے تحت علاج کا طریقہ کار
عطا اللہ تارڑ نے بتایا کہ قیدیوں کو جیل مینول کے مطابق صحت کی سہولیات دی جاتی ہیں اور عمران خان کے معاملے میں بھی یہی طریقہ کار اپنایا جائے گا۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ صحت کے معاملات کو سیاست سے الگ رکھا جانا چاہیے۔
ان کا کہنا تھا کہ حکومت اس معاملے کو سیاست زدہ ہونے کی بجائے آئین، قانون اور جیل قوانین کے مطابق طبی علاج یقینی بنائے گی۔
نجی ہسپتال میں علاج کا قانونی سوال
وزیر اطلاعات نے سوال اٹھایا کہ کیا نجی ہسپتال میں علاج کو تمام قیدیوں کے لیے دستیاب قانونی حق تصور کیا جانا چاہیے، کیونکہ یہ معاملہ قانونی غور طلب ہے۔
- حکومت سپریم کورٹ کے فیصلے پر نظرثانی چاہتی ہے
- عمران خان کو جیل مینول کے تحت علاج ملتا رہے گا
- صحت کے معاملے کو سیاست سے الگ رکھنے کی ضرورت
عطا اللہ تارڑ نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ حکومت عمران خان کے نجی ہسپتال میں علاج سے متعلق سپریم کورٹ کے حکم پر نظرثانی کروانے کا ارادہ رکھتی ہے۔
