ریڈ زون سیل، قائد حزب اختلاف نے رمضان تک احتجاج کی دھمکی دے دی
اسلام آباد: پاکستان تحریک انصاف اور تحریک تحفظ آئین پاکستان کے اراکین کی جانب سے قید سابق وزیراعظم عمران خان کی صحت، خاص طور پر ان کی دائیں آنکھ کی بینائی میں کمی کے دعووں کے باعث پارلیمنٹ ہاؤس کے باہر شروع کیا گیا دھرنا دوسرے روز بھی جاری ہے۔
احتجاجی مظاہرے پارلیمنٹ ہاؤس، کے پی ہاؤس اور پارلیمنٹ لاجز میں ہو رہے ہیں، جہاں قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف محمود خان اچکزئی، سینیٹ میں قائد حزب اختلاف علامہ راجہ ناصر عباس، کے پی کے وزیراعلیٰ سہیل آفریدی اور سابق وزیراعلیٰ علی امین گنڈاپور دیگر اراکین کے ہمراہ موجود ہیں۔
عدالت کے حکم پر طبی معائنہ، بینائی 15 فیصد رہنے کا دعویٰ
پی ٹی آئی کے وکیل سلمان صفدر، جنہیں سپریم کورٹ نے امیکس کیوری مقرر کیا تھا، نے عدالت کے حکم پر راولپنڈی کی اڈیالہ جیل میں عمران خان سے ملاقات کی اور سات صفحات پر مشتمل رپورٹ جمع کرائی۔ رپورٹ میں انکشاف کیا گیا کہ سابق وزیراعظم نے شکایت کی ہے کہ ان کی دائیں آنکھ کی بینائی صرف 15 فیصد رہ گئی ہے۔
سپریم کورٹ نے جمعرات کو عمران خان کو ماہر امراض چشم ڈاکٹروں تک رسائی دینے اور 16 فروری تک باقاعدہ آنکھوں کا معائنہ کرانے کا حکم دیا تھا۔
سی آر وی او کی تشخیص، حکومتی وکلا کا مؤقف
حکومت اور پی ٹی آئی کے درمیان تازہ کشیدگی اس ماہ کی ابتدا میں اس وقت بڑھی جب پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز میں عمران خان کے لیے آنکھ کے ایک طبی عمل کی تصدیق ہوئی۔
سابق وزیراعظم میں سینٹرل ریٹینل وین اکلژن کی تشخیص ہوئی، جو ایک سنگین مرض ہے اور یہ بلڈ پریشر، ذیابیطس اور دل کی بیماریوں سے منسلک ہے۔
وزیراعظم کے مشیر برائے سیاسی امور رانا ثنااللہ نے جمعے کو سینیٹ میں کہا کہ عمران خان نے آنکھ کی شکایت جنوری کے پہلے ہفتے میں کی تھی، جس کے بعد جیل ڈاکٹر نے انہیں آنکھ کے قطرے دیے۔ انہوں نے کہا کہ سابق وزیراعظم کا 16 جنوری کو معائنہ ہوا، جبکہ 19 جنوری کو ٹیسٹ کیے گئے اور 24 جنوری کو انجیکشن لگایا گیا۔
اچکزئی کا انتباہ: رمضان تک احتجاج جاری رہے گا
قائد حزب اختلاف محمود خان اچکزئی نے میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا کہ دھرنا پرامن رہے گا، تاہم انہوں نے مطالبہ کیا کہ پی ٹی آئی بانی کے ذاتی معالج اور خاندان والوں کو ان سے ملنے دیا جائے۔
انہوں نے خبردار کیا کہ اگر مناسب طبی سہولیات فراہم نہیں کی گئیں تو جاری دھرنا مزید شدت اختیار کر سکتا ہے۔ ٹی ٹی اے پی سربراہ نے یہ بھی کہا کہ اگر حکومت مذاکرات سے انکار کرتی ہے تو دھرنا جاری رہے گا اور اگر ان کے مطالبات پورے نہیں ہوئے تو یہ احتجاج رمضان تک جاری رہ سکتا ہے۔
ریڈ زون میں سیکیورٹی انتظامات، مخالفین کے دعوے
حکام نے جمعے کو اسلام آباد کا ریڈ زون سیل کر دیا، جہاں پولیس کے دستے اور رکاوٹیں تعینات ہیں۔ ٹی ٹی اے پی کے ترجمان حسین اخونزادہ نے کہا، “ہم کل سے پارلیمنٹ کے اندر پھنسے ہوئے ہیں، نہ پانی اندر آنے دیا جا رہا ہے نہ ناشتہ۔”
انہوں نے یہ بھی کہا کہ پی ٹی آئی کی سینیٹر فلک ناز کی صحت کل رات سے خراب چلی آ رہی ہے۔
دوسری جانب لاہور میں میڈیا سے بات کرتے ہوئے عمران خان کی بہن علیمہ خان نے کہا کہ پی ٹی آئی بانی کی بینائی پچھلے تین ماہ سے دھندلی ہے۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ حکام سابق وزیراعظم کے ذاتی معالج کی موجودگی کیوں قبول نہیں کر رہے۔
