احمدآباد: بھارت اور نیوزی لینڈ کے درمیان ٹی20 عالمی کپ 2026 کے فائنل میں اتوار کو تاریخی مقابلہ ہوگا جہاں میزبان ٹیم لگاتار دوسری بار ٹائٹل جیتنے والی پہلی ٹیم بننے کی کوشش کرے گی۔
تاریخ کے بوجھ تلے بھارتی ٹیم
نریندر مودی اسٹیڈیم میں ایک لاکھ سے زائد پرجوش شائقین کی موجودگی میں کھیلنے والی بھارتی ٹیم پر نہ صرف قوم کی توقعات کا بوجھ ہے بلکہ وہ تاریخ بھی رقم کرنا چاہتی ہے۔ سوریا کمار یادو کی قیادت میں ٹیم ٹی20 عالمی کپ تیسری بار جیتنے والی پہلی ٹیم بننے کے ساتھ ساتھ اپنے ہی ملک میں یہ ٹائٹل جیتنے کا اعزاز بھی حاصل کرنا چاہتی ہے۔
نیوزی لینڈ کا اعتماد بڑھا
نیوزی لینڈ نے سیمی فائنل میں جنوبی افریقہ کو شکست دے کر سب کو حیران کر دیا ہے۔ فِن ایلن کے تاریخی 33 گیندوں پر سنچری نے ان کی ٹیم میں نیا اعتماد پیدا کیا ہے۔ ایلن کا کہنا ہے کہ “ہمارے پاس فائنل تک پہنچنے کے لیے زبردست مومینٹم ہے۔ اگر ہم اپنی بہترین کرکٹ کھیلیں تو کسی کو بھی ہرا سکتے ہیں۔”
بھارت کے لیے چیلنجز
سیمی فائنل میں انگلینڈ کے خلاف جیت کے باوجود بھارتی ٹیم کے سامنے کئی چیلنجز ہیں۔ اوپنر ابھیشیک شرما کی فارم تشویشناک ہے جبکہ اسپنر وارن چکرورتی کو انگلش بلے بازوں نے سیمی فائنل میں کھیل کر 64 رنز دے دیے۔ تاہم جسپریت بمراہ کی ڈیتھ اوور بولنگ نے انگلینڈ کے خلاف میچ بچا لیا تھا۔
نیوزی لینڈ کی طاقت
ٹِم سیفرٹ کی مستقل مزاجی اور ایلن کی تباہ کن بیٹنگ نیوزی لینڈ کی طاقت ہیں۔ سیفرٹ نے ٹورنامنٹ میں تین نصف سنچریاں اسکور کی ہیں اور وہ ایلن جیسے بلے بازوں کے لیے پلیٹ فارم تیار کرتے ہیں۔ نیوزی لینڈ کی ٹیم اب تک کے ٹورنامنٹ میں غیر مستقل رہی ہے لیکن وہ صحیح وقت پر اپنی بہترین فارم میں آ گئی ہے۔
دباؤ کا اعتراف
بھارتی کپتان سوریا کمار نے تسلیم کیا کہ “دباور اور گھبراہٹ ضرور ہوگی، خاص طور پر ہندوستان میں کھیلتے ہوئے اور ٹائٹل کے لیے۔ لیکن لڑکے اور پوری سپورٹ اسٹاف بھی پرجوش ہیں۔” بھارت نے سپر ایٹ مرحلے میں جنوبی افریقہ سے ہار کے بعد تین ناک آؤٹ میچ جیت کر فائنل تک رسائی حاصل کی ہے۔
آخری مقابلے کا انتظار
دونوں ٹیمیں احمدآباد میں ہونے والے اس تاریخی فائنل کے لیے تیار ہیں۔ بھارت اپنے شائقین کے دباؤ کے ساتھ کھیلے گا جبکہ نیوزی لینڈ کے پاس کھونے کے لیے کچھ نہیں ہے۔ کرکٹ دنیا دیکھ رہی ہے کہ آیا بھارت تاریخ رقم کرے گا یا نیوزی لینڈ اپنا پہلا ٹی20 عالمی کپ جیت لے گا۔
