حالیہ واقعات کا خلاصہ
6 مارچ 2026 کو مشرق وسطیٰ میں تناؤ انتہائی خطرناک موڑ پر پہنچ گیا ہے جب امریکہ اور اسرائیل نے ایران پر مشترکہ فوجی کارروائی کی۔ حملوں میں شیراز کے علاقے میں ہلاکتیں ہوئیں جبکہ ایران نے اسرائیلی ڈرون کو تباہ کرنے اور اسرائیل کی طرف میزائل داغنے کا دعویٰ کیا۔ دبئی کے رہائشیوں کو میزائل حملے کے خطرے کے حوالے سے ہنگامی الرٹ جاری کیا گیا۔
اہم تازہ ترین معلومات
- ایرانی عہدے دار کے مطابق شیراز میں امریکی اور اسرائیلی حملوں میں 20 شہری ہلاک اور 30 زخمی ہوئے۔
- ایران کے اسلامی انقلابی گارڈز (آئی آر جی سی) نے اصفہان کے اوپر اسرائیل کے ہیرون ڈرون کو گرانے کا دعویٰ کیا۔
- دبئی میں رہائشیوں کے موبائل فونز پر “ممکنہ میزائل خطرات” کے حوالے سے ہنگامی الرٹ بھیجا گیا جس میں فوری پناہ گاہ میں جانے کی ہدایت کی گئی۔
- اسرائیلی فوج نے لبنان کے جنوبی علاقوں اور بیروت کے مضافاتی علاقوں کے لیے وسیع پیمانے پر انخلا کے احکامات جاری کیے ہیں، جس پر اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کے سربراہ نے بین الاقوامی قوانین کے تحفظات کا اظہار کیا ہے۔
- انڈونیشیا نے ایران میں پھنسے اپنے شہریوں کو نکالنے کا عمل شروع کر دیا ہے۔
بین الاقوامی ردعمل اور سفری پابندیاں
یورپی یونین کے کمشنر نے کہا ہے کہ امریکہ خلیجی ممالک اور یوکرین دونوں کے لیے ضروری میزائل فراہم کرنے کی پوزیشن میں نہیں ہے۔ قطر ایئر ویز نے ہوائی فضائی حدود بند ہونے کے باعث اپنی پروازوں کو عارضی طور پر معطل کر دیا ہے۔ امریکی سفارتخانے نے پاکستان میں اپنے شہریوں کو ہجوم سے بچنے اور احتیاطی تدابیر اختیار کرنے کی ہدایت کی ہے۔
خطے میں کشیدگی میں مسلسل اضافہ
عمان نے جنگ بندی اور شہریوں کی حفاظت کا مطالبہ کیا ہے جبکہ آسٹریلیا کے وزیر اعظم نے مشرق وسطیٰ میں فوجی اثاثے تعینات کرنے کا اعلان کیا ہے۔ پاکستان نے سیکیورٹی صورتحال کے باوجود بندرگاہوں میں داخلے معطل نہیں کیے ہیں۔ صورتحال کے پیش نظر بین الاقوامی برادری تشویش کا اظہار کر رہی ہے اور فوری ڈی اسکلیشن کی اپیل کی جا رہی ہے۔
