انڈونیشیا کے مشرقی جزیرے فلورس میں آنے والے شدید زلزلے کے بعد ہزاروں بے گھر افراد اتوار کو امداد کے انتظار میں کھلے آسمان تلے موجود ہیں۔ زلزلے کے نتیجے میں کم از کم 51 افراد ہلاک، درجنوں زخمی اور سیکڑوں عمارتیں تباہ ہو چکی ہیں۔
نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ ایجنسی کے ترجمان بیرٹن سوار پلیتا پنجائیتن کے مطابق ہفتے کی صبح آنے والے 7.7 شدت کے زلزلے اور اس کے بعد 341 آفٹر شاکس نے تقریباً 5,000 افراد کو اپنے گھروں سے نکلنے پر مجبور کر دیا ہے۔
بنیادی ضروریات کی شدید قلت
متاثرہ علاقوں میں بجلی اور ٹیلی کمیونیکیشن کا نظام درہم برہم ہے، جبکہ کم از کم ایک ہنگامی رسائی سڑک اب بھی ناقابل استعمال ہے۔ 55 سالہ عمری، جن کا ایک ہی نام ہے، نے خبر رساں ادارے اے ایف پی کو بتایا کہ ہمیں بچوں کے لیے خوراک، پانی، ادویات اور ڈائپرز کی فوری ضرورت ہے۔
فلورس کے شمالی ساحل پر واقع ننگاہالے سے تعلق رکھنے والے عمری نے بتایا کہ وہ زلزلے کے بعد 24 گھنٹے پہاڑی پر محفوظ مقام پر انتظار کرتے رہے۔ انہی کے ساتھ موجود نورحیاتی، جو 55 سال کی ہیں، نے کہا کہ میں اب بھی خوفزدہ ہوں، زلزلے کا سوچ کر میرا دل دھڑکنے لگتا ہے۔ ہم کل یہاں بھاگ کر آئے تھے۔ میں 1992 کے زلزلے سے بھی صدمے میں ہوں، اس لیے گھر واپس جانے کی ہمت نہیں کر پا رہی۔
تاریخی تناظر اور فوری امدادی ضروریات
فلورس 1992 میں بھی 7.7 شدت کے زلزلے سے لرز اٹھا تھا، جس نے سونامی کو جنم دیا اور تقریباً 2,500 افراد ہلاک ہوئے تھے۔ نورحیاتی نے حکومت سے جلد امدادی سامان کی تقسیم کی امید ظاہر کی ہے۔
نیشنل سرچ اینڈ ریسکیو ایجنسی (باسارناس) نے اتوار کو ہلاکتوں کی تعداد 51 اور زخمیوں کی تعداد 132 بتائی ہے۔ کسی کے لاپتہ ہونے کی اطلاع نہیں ملی۔ زندہ بچ جانے والوں کو فوری طور پر ایمرجنسی ٹینٹ، خوراک، ادویات، کمبل، کیمپ بیڈ، فرش میٹ، پینے کا صاف پانی اور جنریٹرز کی ضرورت ہے۔
ڈیزاسٹر مینجمنٹ ایجنسی کے بیرٹن کے مطابق فلورس کے کم از کم 101 رہائشی زخمی ہوئے ہیں۔ انہوں نے ایک بیان میں کہا کہ قیمتی جانوں کے نقصان کے علاوہ، سمندر میں آنے والے زلزلے نے مادی نقصان پہنچایا جس نے رہائشیوں کی روزمرہ زندگی کو مفلوج کر دیا ہے۔
ہنگامی حالت کا اعلان اور امدادی کارروائیاں
مقامی سرچ اینڈ ریسکیو آپریشنز کے سربراہ فتح الرحمن نے اتوار کو بتایا کہ انہیں ابھی تک کسی کے ملبے تلے دبے یا لاپتہ ہونے کی اطلاع نہیں ملی۔ زلزلے کا مرکز فلورس کے بالکل شمال میں تھا، جو مشرقی انڈونیشیا کا سیاحتی جزیرہ ہے جہاں عمارتیں نسبتاً کم اونچی ہیں۔
زلزلے کے فوراً بعد سمندر کے پیچھے ہٹنے کے باعث رہائشی اونچائیوں کی طرف بھاگے، جس سے سونامی کا خدشہ ظاہر کیا گیا تھا۔ تاہم الرٹ جلد ہی ختم کر دیا گیا، لیکن حکام نے لوگوں کو کمزور عمارتوں میں واپس نہ جانے کی ہدایت کی ہے کیونکہ آفٹر شاکس انہیں گرا سکتی ہیں۔
ریسکیو حکام کے مطابق کم از کم 914 مکانات شدید نقصان سے دوچار ہوئے ہیں، جبکہ سیکڑوں دیگر کو جزوی نقصان پہنچا ہے۔ درجنوں سرکاری عمارتیں بھی متاثر ہوئی ہیں جن میں 93 تعلیمی، 36 صحت اور 38 سرکاری ادارے شامل ہیں۔
مشرقی نوسا ٹینگارا کی صوبائی حکومت، جہاں فلورس واقع ہے، اگلے 14 دنوں کے لیے علاقے میں ہنگامی حالت نافذ کرنے کا حکم نامہ تیار کر رہی ہے۔ ریڈ کراس اور ریڈ کریسنٹ نے عارضی پناہ گاہوں میں موجود ہزاروں بے گھر افراد تک امداد پہنچانے کی تیاریاں شروع کر دی ہیں۔
بین الاقوامی امداد اور مقامی صورت حال
حکومت نے 50,000 امدادی کٹس یعنی 275 ٹن انسانی امداد بھیجی ہے۔ یورپی یونین نے زمینی جائزہ اور ممکنہ متاثرین کی نشاندہی کے لیے اپنے کوپرنیکس ارتھ آبزرویشن سیٹلائٹس کی پیشکش کی ہے۔
زلزلے سے سب سے زیادہ متاثرہ علاقے سے تقریباً 200 کلومیٹر دور واقع شہر روتینگ میں اے ایف پی کے نمائندوں نے اتوار کو بھاری مشینری کو سڑکوں سے ملبہ ہٹاتے دیکھا۔ مقامی اسپتال کی ترجمان یوہانا رائیسٹا دامالیا ماری نے بتایا کہ عمارت کو شدید نقصان پہنچا ہے اور مریضوں کو باہر لگائے گئے خیموں میں منتقل کر دیا گیا ہے۔
ایک خاتون کا ہنگامی سیزرین آپریشن ایک محفوظ اسٹوریج روم میں کیا گیا جسے عارضی آپریشن تھیٹر میں تبدیل کیا گیا تھا۔ یوہانا نے کہا کہ خدا کا شکر ہے کہ آپریشن کامیاب رہا اور ماں اور بچہ دونوں خطرے سے باہر ہیں۔
بحرالکاہل کی “رنگ آف فائر” پر واقع انڈونیشیا میں زلزلے کی سرگرمیاں معمول کی بات ہیں۔ 2004 میں سماٹرا کے مغربی ساحل پر 9.1 شدت کے زلزلے نے خوفناک سونامی کو جنم دیا تھا جس میں انڈونیشیا میں 170,000 اور پڑوسی ممالک میں مزید 50,000 افراد ہلاک ہوئے تھے۔ یہ آج بھی انسانی تاریخ کی بدترین دستاویزی قدرتی آفات میں سے ایک ہے۔
