119 ممالک میں چلائے گئے آپریشن لبرٹیرا III کے حیرت انگیز نتائج
بین الاقوامی پولیس تنظیم انٹرپول کے زیر اہتمام انسانی اسمگلنگ اور تارکین وطن کے غیر قانونی کاروبار کے خلاف چلائے گئے عالمی آپریشن کے نتیجے میں 3,744 سے زائد مشتبہ افراد کو گرفتار کیا گیا ہے جبکہ 4,414 ممکنہ متاثرین کو تحفظ فراہم کیا گیا۔ ‘لبرٹیرا III’ کے نام سے منعقد ہونے والا یہ آپریشن 10 سے 21 نومبر 2025 تک 119 ممالک میں چلایا گیا جس میں 14,000 سے زائد قانون نافذ کرنے والے اہلکاروں نے حصہ لیا۔
نئی تحقیقات اور بدلتے ہوئے جرائم کے طریقے
شرکاء ممالک کی جانب سے جمع کرائے گئے ابتدائی اعداد و شمار کے مطابق:
- 3,744 مشتبہ افراد گرفتار ہوئے جن میں سے 1,800 سے زائد پر انسانی اسمگلنگ اور غیر قانونی تارکین وطن کے جرائم کے الزامات ہیں
- 720 سے زیادہ نئی تحقیقات کا آغاز کیا گیا جن میں سے اکثر ابھی جاری ہیں
- 12,992 غیر قانونی تارکین وطن کی نشاندہی کی گئی
انٹرپول کے منظم اور ابھرتے ہوئے جرائم کے شعبے کے ڈائریکٹر ڈیوڈ کانٹر نے اس موقع پر کہا کہ “یہ مجرمانہ گروہ بہت لچکدار ہیں اور انہوں نے تیزی سے خود کو ڈھال لیا ہے، لہٰذا قانون نافذ کرنے والے اداروں کو بھی اسی طرح تیزی سے کام کرنا ہوگا۔”
جرائم کے نئے رجحانات اور علاقائی تبدیلیاں
انٹرپول کے بیان کے مطابق آپریشن کے دوران ایک اہم تبدیلی یہ دیکھنے میں آئی کہ افریقہ میں جنوبی امریکی اور ایشیائی شہری متاثرین کے مقدمات سامنے آئے ہیں۔ یہ رجحان تاریخی طور پر دیکھے جانے والے طریقہ کار سے مختلف ہے جس میں عام طور پر افریقی شہریوں کو دیگر ممالک میں اسمگل کیا جاتا تھا۔
جبری مشقت اور دیگر استحصالی طریقوں میں اضافہ
اگرچہ جنسی استحصال کے واقعات اب بھی سب سے زیادہ رپورٹ ہوتے ہیں، لیکن جبری مشقت اور مجرمانہ سرگرمیوں میں استحصال کے واقعات میں واضح اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔ اس کے علاوہ گھریلو غلامی اور اعضاء کی اسمگلنگ کے مقدمات بھی سامنے آئے ہیں۔
آپریشن کے دوران سامنے آنے والے چند قابل ذکر واقعات:
- بیلیز میں شیشے کے کارخانے میں کام کرنے والے بچے
- ایل سلواڈور میں 73 سالہ شخص کو فروخت کی گئی نوجوان لڑکی
- موزمبیق سے اعضاء کی اسمگلنگ کے لیے اغوا کیا گیا 8 سالہ لڑکا
- کوسٹا ریکا میں ‘ایل گورڈو’ نامی شخص کی گرفتاری جس پر ٹیکنیکل ہائی اسکول کی لڑکیوں سے جنسی نوعیت کی ویڈیوز بنوانے کا الزام ہے
بین الاقوامی تعاون سے کامیابیاں
برازیل میں پاکستان، افغانستان، میکسیکو اور امریکا سے منسلک تارکین وطن کے اسمگلرز کے ایک بین الاقوامی نیٹ ورک کو توڑا گیا۔ پیرو میں پولیس نے ایک مجرمانہ گروہ کے خلاف کارروائی کی جو 30 وینزویلین تارکین وطن کو چلی میں غیر قانونی طور پر داخل کرنے کا ذمہ دار تھا۔ ایشیا میں آن لائن اسکیموں کے مراکز کے خلاف کارروائیوں میں میانمار میں 450 افراد پر مشتمل ایک کمپلیکس کو ختم کیا گیا۔
یہ آپریشن انٹرپول کی جانب سے انسانی اسمگلنگ کے خلاف عالمی جنگ میں ایک اہم پیشرفت ہے، جس میں متعدد ممالک کے درمیان تعاون نے مجرمانہ نیٹ ورکس کو توڑنے اور سینکڑوں بے گناہ افراد کو تحفظ فراہم کرنے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔
