اسلام آباد: وزیر دفاع خواجہ آصف نے منگل کے روز تیراہ وادی میں فوجی آپریشن کی اطلاعات کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس علاقے میں کئی سالوں سے کوئی آپریشن نہیں ہوا اور حالیہ نقل مکانی سخت موسمی حالات سے منسلک ایک معمول کا موسمی عمل ہے۔
خواجہ آصف نے اسلام آباد میں اطلاعات کے وزیر عطاء اللہ تارڑ اور وزیراعظم کے معاون خصوصی برائے اطلاعات و خیبرپختونخوا امور اختیار ولی خان کے ہمراہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ “تیراہ وادی میں کئی سالوں سے کوئی آپریشن نہیں ہوا۔ یہ تمام مفروضے ہیں۔”
وزیر دفاع نے حالیہ دنوں میں زیر گردش اطلاعات کی واضح تردید کی جن میں تیراہ وادی میں فوجی کارروائی اور اس کے نتیجے میں نقل مکانی کی اطلاعات شامل تھیں۔ انہوں نے زور دے کر کہا کہ رہائشیوں کی نقل مکانی کا تعلق موسم سرما کی سخت حالات سے ہے، جو کہ اس خطے کا ایک سالانہ معمول ہے۔
وزارت دفاع کی پوزیشن
اس پریس کانفرنس میں حکومتی نمائندوں نے درج ذیل نکات پر روشنی ڈالی:
- تیراہ وادی میں کسی قسم کی فوجی کارروائی نہیں کی گئی۔
- علاقے میں امن و امان کی صورت حال معمول کے مطابق ہے۔
- رہائشیوں کی نقل مکانی موسمی تبدیلیوں کا نتیجہ ہے۔
- حکومت مقامی آبادی کی بہبود کے لیے پرعزم ہے۔
خیبرپختونخوا کے قبائلی اضلاع میں موسم سرما کے دوران نقل مکانی ایک تاریخی اور ثقافتی روایت رہی ہے جہاں مقامی افراد سردیوں میں نسبتاً گرم علاقوں کی طرف منتقل ہوتے ہیں۔ وزیر دفاع کے بیان کے مطابق، حالیہ نقل مکانی کا یہی پس منظر ہے۔
یہ واقعہ اس وقت سامنے آیا ہے جب سوشل میڈیا اور بعض حلقوں میں تیراہ وادی میں فوجی آپریشن کی افواہیں گردش کر رہی تھیں۔ وزارت دفاع کے عہدیداروں کا کہنا ہے کہ ایسی بے بنیاد اطلاعات سے عوامی ذہن میں بے جا تشویش پیدا ہوتی ہے۔
حکومت نے واضح کیا ہے کہ پاکستان کی مسلح افواج ملکی سلامتی کے تحفظ کے لیے پرعزم ہیں اور ایسی کسی بھی کارروائی کی صورت میں باقاعدہ طور پر عوام کو آگاہ کیا جاتا ہے۔
