پیرس: فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون نے 22 جون 2025 کو ایلیسی محل میں ایران اور اسرائیل کے درمیان بحران پر ایک اہم دفاعی کونسل کا اجلاس طلب کیا۔ اس موقع پر ان کے ہمراہ صدراتی سیکریٹری جنرل ایمانوئل مولین اور جنرل فیبیئن ماندون بھی موجود تھے۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے غیر متوقع فیصلے کے بعد یورپ ایک مشکل صورتحال سے دوچار ہو چکا ہے۔ ہفتہ اور اتوار کی درمیانی شب امریکی بمباری نے ایرانی جوہری سائٹس کو نشانہ بنایا جس سے یورپی رہنما شدید دباؤ کا شکار ہو گئے ہیں۔ ان میں سے کسی نے بھی امریکی صدر کی اسرائیلی حملوں میں شمولیت کی مذمت نہیں کی، مگر یہ کارروائی ان کی حالیہ سفارتی کوششوں کو ناکام بنا دیتی ہے جو اس قسم کی پیشرفت کو روکنے کے لیے کی جا رہی تھیں۔
اس خطرناک صورتحال کے بعد مشرق وسطیٰ میں کشیدگی کے مزید بڑھنے کا خدشہ ہے، جس سے یورپی ممالک پریشان ہیں۔ اگرچہ بعض ماہرین کا خیال ہے کہ ایران کے پاس جوابی کارروائی کی صلاحیت نہیں رہی ہے، پھر بھی یورپی رہنماؤں نے ایران سے اپیل کی ہے کہ وہ خطے کو مزید عدم استحکام کا شکار نہ کرے۔
اتوار کو ایک مشترکہ بیان میں فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون، جرمن چانسلر فریڈرک مرز اور برطانوی وزیراعظم کیئر سٹارمر نے زور دیا کہ وہ سفارتی کوششوں کو جاری رکھیں گے تاکہ تنازعے کو کم کیا جا سکے اور اس بات کو یقینی بنایا جا سکے کہ یہ مزید شدت اختیار نہ کرے۔
یورپی ممالک کی جانب سے یہ بیان اس وقت سامنے آیا جب خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی نے عالمی امن کے لیے خطرہ پیدا کر دیا ہے۔ یورپی رہنما اس پیچیدہ صورتحال میں سفارتی حل کے لیے راہیں ہموار کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔
